طالبان کے ساتھ کیا کرنا ہے‘یہ ہمارا فیصلہ ہوگا بھارت گھٹیا دشمن‘ہمت ہے توآئے مقابلہ کرے ترجمان پاک فوج

فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں،، سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی حکومتیں بناتی ہیں‘ نیشنل ایکشن پلان سیاستدانوں نے بنایا اب اس پر عمل درآمد کریں، فوج کسی سیاسی معاملے پر جواب نہیں دے گی
ہمارے لیے سب اہم چیز یہ ہے  ریاست ہے تو سیاست ہے، کسی کی سیاست کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کی سلامتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے   بھی کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
 خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں شہریوں کے تحفظ کے لئے جو کرنا پڑا کریں گے، کالعدم بی ایل اے اور کالعدم ٹی ٹی پی میں کوئی فرق نہیں‘پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کا دفاع کرے گا
 دفاعی معاہدہ میڈیا کو بتانے کیلئے  نہیں بلکہ عملدرآمد کیلئے  ہے:پریس کانفرنس‘ ڈی جی آئی ایس پی آر  نے بھارتی پراپیگنڈا بے نقاب  کردیا‘کشمیر میں مارا گیا پاک فوج کا حوالدار  محمد آصف پریس کانفرنس میں پیش کردیا 
 راولپنڈی (آئی این پی )  پاک فوج کے شعبہ  تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے     فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں  ، سیاست سیاسی جماعتوں کے لیے ہے، سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی حکومتیں بناتی ہیں، ریاست ہے تو جمہوریت اور سیاست ہے، نیشنل ایکشن پلان سیاستدانوں نے بنایا اب اس پر عمل درآمد کریں، فوج کسی سیاسی معاملے پر جواب نہیں دے گی ،  کسی کی سیاست کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کیلئے پرعزم ہے،   ہم حرمین شریفین کا دفاع اور مملکت سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں ،پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کا دفاع کرے گا اور اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے،مکہ دفاعی معاہدہ میڈیا کو بتانے کیلئے  نہیں بلکہ عملدرآمد کیلئے  ہے۔ ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی ابتدا ہی بھارتی فوج اور میڈیا کی جانب سے کشمیر میں ایک دہشت گرد کے مارے جانے اور اس کا تعلق پاکستان فوج سے ہونے کے دعوئوں سے کیا۔ ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے  کہا  کہ بھارتی سرکاری دعوے کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی معاملے کو بھرپور انداز میں رپورٹ کیا۔ نیوز 18، اسٹیٹس مین، انڈیا ٹوڈے، ہندوستان ٹائمز، اے بی پی لائیو اور انڈین ایکسپریس سمیت مختلف بھارتی میڈیا اداروں نے محمد آصف سے متعلق دعوے نشر کیے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی محمد آصف کی تصویر مختلف دعوئو ں کے ساتھ شیئر کی گئی اور اسے مختلف واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ موسیٰ سابق ایس ایس جی حوالدار ہے تو پاکستان نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ شخص کہاں ہے۔انہوں نے میڈیا کے سامنے محمد آصف کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی سپر مین ہے جسے بھارتی میڈیا نے ہلاک قرار دیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے  کہا  کہ بھارتی فوج کی چنار کور کے مطابق محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کی لاش 30 ستمبر کو برآمد ہوئی تھی۔اس موقع پر سابق ایس ایس جی اہلکار حوالدار (ریٹائرڈ)محمد آصف نے بھی لائیو پریس کانفرنس میں بات کی اور بھارتی میڈیا کی جانب سے اپنی شہادت سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور بھارتی میڈیا نے ان کے بارے میں جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا۔ محمد آصف نے کہا کہ دوستوں نے انہیں فون کرکے بتایا کہ بھارتی میڈیا پر ان کی شہادت کی خبریں چل رہی ہیں، جس کے بعد انہیں مسلسل فون کالز موصول ہونا شروع ہوگئیں۔  انہوں نے دوستوں سے کہا کہ آپ فون پر مجھ سے بات بھی کر رہے ہیں اور بھارتی فوج کی خبر پر یقین بھی کر رہے ہیں۔ محمد آصف نے مزید کہا کہ وہ ایس ایس جی سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور وطن کی خاطر بہادری سے لڑ چکے ہیں۔محمد آصف نے اپنی سروس کے بارے میں بتایا کہ وہ 2000 میں آرمی میں آرٹلری کے شعبے میں بھرتی ہوئے، 2005 میں ایس ایس جی جوائن کی اور 2023 میں ایس ایس جی سے ریٹائر ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد تین سال تک ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں ڈیوٹی کی  جبکہ گزشتہ تین چار ماہ سے وہ اپنے گھر میں خاندان کے ساتھ پنڈی میں رہ رہے ہیں۔محمد آصف نے کہا کہ بھارت نے ان پر دہشتگردی سے متعلق جو الزام لگایا ہے، وہ انتہائی گھنائونا اور جھوٹا الزام ہے۔انہوں نے بھارتی میڈیا کے دعوے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ الحمدللہ زندہ ہیں اور میڈیا کے سامنے موجود ہیں۔ انہوںنے کہا  کہ ان کے پاس اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے شناختی کارڈ بھی موجود ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کے ویڈیو شواہد بھی پیش کیے۔انہوں نے کہا  کہ سب کو سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے، جہاں انسانیت سوز مظالم کشمیری عوام خود دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں لیکن اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کے اندرونی معاملات ہیں اس سے پاکستان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔جنرل بھارتی وزیراعظم سمیت تمام انتہا پسند ہندو حکام ریاستی سطح پر کی جانے والی دہشتگردی کو فخریہ بیان کرتے ہیں، بھارت دنیا میں دہشتگردی پھیلانے کا مرکز بن چکا ہے، اگر اپ کے پاس ثبوت ہیں تو آجائیں دکھائیں، یہ نہیں ہوسکتاکہ صبح نیند سے اٹھو اور پاکستان پر الزامات لگانا شروع کرو۔ہم بار بار ان سے بہت پیار سے کہتے آئے ہیں کہ آگے بڑھیں، پہلگام کے معاملے پر ہم نے کہا آئیں ثبوت دیں، ہمیں نہیں دینا چاہتے تو کسی تیسرے فریق کو ثبوت دیں، بھارت دہائیوں سے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یہ کیسا ملک ہے جو اپنا اعلیٰ ترین اعزاز ابھی نندن کو دے رہا ہے کہ آپ نے جہاز گرا دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پاکسان کی مسلح افواج کا موقف  واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پالیسی بالکل کلیئر ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ہم سامنے لڑنے والے ہیں، پیچھے سے وار کرنے والے  نہیں۔انہوں نے بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا ایک ایسا ہمسائیہ ہے جو اپنے سیاسی عزائم کے لیے صرف جھوٹ بیچتا ہے اور زندہ محمد آصف کو دہشتگرد قرار دے کر مارنے کا دعویٰ کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اگر کچھ کرنا چاہتاہے کہ تو آجائے پھر ہمارا ردعمل بھی بہت سخت ہوگا،دشمن کے ہر اقدام کے لیے مکمل تیار ہیں ،یقین دلاتے ہیں کہ اس دفعہ کا ہمارا جواب بڑا درد ناک ہوگا۔