صدر‘وزیراعظم کی ملاقات پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی قائم رہنما آج ملیں گے
حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی میں محسن نقوی، رانا ثناء اللہ ، امیر مقام ، شیری رحمان ‘نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہیں،ملاقات میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا:ترجمان ایوان صدر
غلطیاں ٹھیک کئے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھ کر اقدامات کی ضرورت ہے، جن کو سونے کے چنے کھلائے انہوں نے پھر بھی ایکسپورٹ نہیں بڑھائی :وزیراعظم کا سٹاک مارکیٹ میں تقریب سے خطاب
آسان خدمت مراکزکے ذریعے سرکاری کاموں کیلئے دفاتر کے چکر ختم ہونے چاہئیں، شہریوں کو ایک ہی چھت تلے متعدد سرکاری خدمات کی بروقت فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے: اجلاس میں اظہار خیال
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ہونیوالی ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے مشترکہ کمیٹی بنا دی گئی۔ایوان صدر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے مشترکہ کمیٹی میں محسن نقوی، رانا ثناء اللہ ، امیر مقام ، شیری رحمان شامل ہیں، وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد آج پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرے گا، مشترکہ کمیٹی میں نوید قمر اور اعجاز جکھرانی بھی شامل ہیں، حکومت اور پیپلز پارٹی کا وفد پی ٹی آئی قیادت سے موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔ایوان صدر کے اعلامیے میں کہا گیا اجلاس میں ملک میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا، صدر اور وزیر اعظم نے ملکی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا، دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بنانے اور ملک کے امن و استحکام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔قبل ازیںوفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کے طرزعمل پر سخت ردعمل دینے اور محاذ آرائی کی صورت میں آئینی و قانونی آپشن فوری استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ خیبرپختونخوا کی صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اعلی سطح اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ وفاقی وزیر داخلہ کی خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی، پی ٹی آئی سے جاری بیک ڈور رابطوں سے وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے آئینی و قانونی آپشنز پر تفصیلی غور کیا گیا، وزیراعظم کو افغان سرحد کی صورتحال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے آگاہ کیا گیا۔وزیر قانون نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر آئینی و قانونی نقطہ نظر اور دستیاب آپشنز پیش کر دیئے، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام کی خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور اتحادیوں سے رابطوں پر بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کو پیغام دیا گیا ہے کہ طرزعمل تبدیل کرے یا نتائج کیلئے تیار رہے۔ صوبے کے انتظامی اور سیاسی مستقبل سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار صدرِ مملکت اور وزیراعظم کو دے دیا گیا ہے۔۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غلطیاں ٹھیک کئے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھ کر اقدامات کی ضرورت ہے،معیشت کیلئے وفاق اور صوبائی حکومتوں نے ملکر مشکل حالات میں کام کیا، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، روشن ڈیجیٹل اکائونٹس بہتر ہوئے ہیں،ایکسپورٹ انڈسٹری کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ، ایکسپورٹ گروتھ دکھانا ہو گی،فیلڈمارشل عاصم منیر نے کمٹمنٹ کے ساتھ کام کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ ہال میں منعقدہ تقریب سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی غلطیوں کو ٹھیک نہیں کریں گے تو ترقی نہیں کر سکتے۔ معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس کے اصل مقام پر لانا ہے۔ انشا اللہ دنیا کے نقشے پر پاکستان طاقتور معیشت کے طور پر سامنے آئے گا۔یہ تقریب نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ کی پبلک لسٹنگ اور عوام کی جانب سے شاندار ردعمل کی مناسبت سے منعقد کی گئی، وزیر اعظم نے بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں ورچوئل شرکت کی ۔ وزیراعظم نے ایکسپورٹ انڈسٹری کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہائیاں گزرنے کے بھی انڈسٹری نے ترقی کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کی کارکردگی تسلی بخش نہیں، کسی کانام نہیں لینا چاہتا، انہیں سونے کے چنے کھلائے گئے لیکن کارکردگی نہیں دکھائی، انڈسٹریز کو خون پسینے کی کمائی سے سبسڈی دی لیکن آج ان کا کیا حال ہے؟۔علاوہ ازیں شہباز شریف نے آسان خدمت مراکز بڑھانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری کاموں کے لیے دفاتر کے چکر ختم ہونے چاہییں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان آسان خدمت سینٹر کی کارکردگی، توسیع اور ملک کے مختلف علاقوں میں نئے آسان خدمت مراکز کے قیام سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے شہریوں کو دہلیز پر تیز، شفاف اور معیاری خدمات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو سرکاری خدمات کے حصول کے لئے دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ آسان خدمت مراکز کے ذریعے شہریوں کو ایک ہی چھت تلے متعدد سرکاری خدمات کی بروقت فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔شہباز شریف نے پاکستان آسان خدمت سینٹر میں مختلف سہولیات کی فراہمی کے وقت میں مزید کمی لانے اور اسلام آباد میں موجود پاکستان آسان خدمت سینٹر کی توسیع کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے اسلام آباد آسان خدمت مرکز میں شہریوں کی ضرورت کے مطابق مختلف کانٹرز پر عملے کی تعداد بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے مرکز کی تیسرے فریق سے کرائی گئی کارکردگی کی آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔