امریکہ سے معاہدے اور تجارت کی سب تفصیلات سامنے آچکی ہیں،امریکہ پہلے مرحلے میں ریکوڈک میں سرمایہ کاری کریگا، اس کے بعد اگلے مراحل آئیں گے: محمد اورنگزیب

 امریکی سرمایہ کاروں کا  وفدپاکستان پہنچ گیا ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کیلئے اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے: وزیر خزانہ
عدالتوں میں کئی ٹیکس مقدمات زیر التواء ہیں ان سے وصولیوں کا امکان ہے، آئی ایم ایف سے بات چیت مثبت رہی ہے‘رواں مالی سال کے آخر تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 11 فیصد پر لانے کے لئے پر عزم ہیں
اگلے مالی سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائے گا‘نیا بجٹ وزارت خزانہ کا ٹیکس پالیسی آفس بنائے گا، ٹیکس پالیسی آفس پورا سال بجٹ پر مشاورت کرے گا: ‘ پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو‘قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن ) وفاقی وزیر خزانہ  سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے  امریکہ پہلے مرحلے میں ریکوڈک میں سرمایہ کاری کرے گا۔اپنے ایک بیان میں محمد اورنگزیب نے کہا  امریکی سرمایہ کاروں کا پہلا وفد پاکستان آگیا ہے، امریکہ پہلے مرحلے میں ریکوڈک میں سرمایہ کاری کرے گا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سرمایہ کاری ریکوڈک میں ہے، اس کے بعد اگلے مراحل آئیں گے ۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیرف کا فیصلہ سامنے ہے  اب سرمایہ کاری کے معاملے کو آگے لے کر جانا ہے، امریکا سے معاہدے اور تجارت کی سب تفصیلات سامنے آچکی ہیں۔پارلیمنٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کے لیے اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے۔عدالتوں میں کئی ٹیکس مقدمات زیر التواء ہیں ان سے وصولیوں کا امکان ہے، آئی ایم ایف سے بات چیت مثبت رہی ہے‘رواں مالی سال کے آخر تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 11 فیصد پر لانے کے لیے پر عزم ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جو اہداف طے ہیں ان پر مکمل عمل کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اس سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد تک لے جانے کا ہدف طے ہے اور اس پر ہم قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں ٹیکسوں کے مقدمات زیر التوا ہیں۔ ٹیکس تنازعات کے کیسز سے حاصل ہونے والا ریونیو شارٹ فال کم کرنے میں معاون ہوگا۔علاوہ ازیں  مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ محمداورنگزیب اور اٹارنی جنرل بھی ہوئے۔وزیر خزانہ نے  قائمہ کمیٹی کو معاشی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ملک میں میکرو اکنامک استحکام آچکا ہے، حکومت اس سال نومبرکےآخرمیں ابتدائی طور پر25کروڑڈالرکا پانڈابانڈ جاری کرے گی، مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈ جاری کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کر دی ہے جبکہ اپریل 2026 میں 1.3 ارب ڈالر کی اگلی پیمنٹ بھی بروقت کی جائے گی، یورو بانڈ کی ادائیگی کیلئے انتظامات کیے گئے ہیں، ان ثمرات کے ذریعے معیشت کو آگے لے کر جائیں گے۔ اگلے مالی سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائے گا، ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے اب نکال لیا گیا ہے، نیا بجٹ وزارت خزانہ کا ٹیکس پالیسی آفس بنائے گا، ٹیکس پالیسی آفس پورا سال بجٹ پر مشاورت کرے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پتہ نہیں کیا کیا باتیں ہوتی ہیں لیکن اب معیشت کی سمت درست ہے، ایف بی آر ٹرانسفارمیشن کو وزیراعظم خود بھی دیکھ رہے ہیں، وزیراعظم اس ٹرانسفارمیشن پر ماہانہ اور ہفتہ وار رپورٹ لے رہے ہیں، ٹیکس پالیسی آفس آپریشنلائزیشن ہونے کے قریب ہے۔