نازیہ آصف
ہم اس عنوان کو سمجھنے کے لیے پچھلی صدی اور عصر حاضر (2025) کے انسانوں کو آٹھ ادوار میں تقسیم کر لیتے ہیں ان آٹھ ادوار کو مختلف عنوانات دیے گئے ہیں۔
1. .1900___1927. . . . greatest nation
2. . 1928___1945. . . . silent nation
3. .1946____1964. . .baby boomer
4. . 1965______1980. . . generation,X
5. .1981_____1996. . . . Generation,Y
6. .1997____2010. . . generation, Z
7. . .2010____2025…..Alfa
8...2025 ____2039. . . .beta
پہلی نسل کو عظیم ترین نسل کا نام دیا گیا جنھوں نے جنگ عظیم اول اور اس کی تباہی کاریوں کا سامنا کیا اور پھر تعمیر نو میں بھی خاموشی سے حصہ لیا۔دوسری نسل، خاموش نسل تھی جسے گمشدہ نسل بھی کہا جاتا ہے۔یہ لوگ سر جھکائے پرامن کاوشوں میں مصروف رہے، مگر اختتام پہ اسے دوسری جنگ عظیم کا سامنا رہا۔پھر تیسری نسل شروع ہوء جس نے پچھلی دو عظیم جنگوں کے بعد پرامن ماحول پایا اور "بے بی بومر" کا نام یایا، مطلب آبادی خوب بڑھائی۔
ان کے بعد بالترتیب نسل ایکس آء ، یہ بہت متحمل اور وفا شعار لوگ تھے ، ایک ہی نوکری ایک ہی کام ایک ہی میاں بیوی نے تاحیات ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا۔پھر نسل وائی آئی، جس نے دنیا کو بہت تیزی سے بدلتے دیکھا۔بیت سارے چیلنجرز کا سامنا کیا، نے نء سائینسی ایجادات ہوئیں ، دنیا چاند تک جا پہنچی، بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین بھی ہو گء۔ فاصلے سمٹنے لگ گئے اور ہزاروں میل دور بیٹھے انسان ایک منٹ کی دوری پہ رہ گئے۔اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع "جنریشن ذی " کی طرف، جس نے آج کے دور میں پلک جھپکتے ہی بڑی بڑی حکومتوں کی مت مار کر رکھ دی ہے۔ انھیں نوجوانوں کو " ڈیجیٹل نسل " بھی کہا جاتا ہے۔
جین زی کا فرینزی، یعنی ذی نسل کا ناقابل کنٹرول غصہ یا اشتعال، جو چند منٹ سے لے کر چوبیس گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
یہ نسل موبائل ہاتھوں میں لے کر جوان ہوئی ہے، گلوبل سطح پہ سب سے زیادہ ترقی اس نسل نے دیکھی یے، اس نسل کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ یہ ماضی کی تاریخ سے زیادہ مستقبل پہ فوکس رکھتی ہے حال میں جیتی اور ہسٹری سے لاتعلق رہنے کی کوشش میں ہے ہر معاملے میں خود فیصلہ کرنے اور اپنی رائے کو ہی اتھینٹک سمجھتی ہے۔ جینریشن ایکس واء نے جو تبدیلیاں اپنی ساٹھ ستر سالہ زندگی میں نہیں دیکھی تھیں وہی تبدیلیاں جیسے دہشت گردی، کرونا، جنگ ، سیلاب ، اس کے علاؤہ گلوبل سطح پہ ہونے والے موسمیاتی چیلنجز سے یہ نسل نبٹ چکی ہے۔
یہ ڈیجیٹل انسان اپنے بزرگوں کو بھی زیادہ تر خاطر میں نہیں لاتے ، جس میں کسی حد تک ان کے بزرگوں کا بھی عمل دخل یے کہ انھوں نے اپنے اسلاف کی تقلید میں ان کے ڈیجیٹل دور سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ، جس سے جینریشن گیپ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا یے ، یہ لوگ ٹی وی سکرین کی طرح ہر لمحہ بدل جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ماضی کے تجربات سے نہیں بلکہ ڈیجٹل آنکھ سے چیزوں جو پرکھنا چاہتے ہیں۔
سماجی فلاسفروں کے نزدیک یہ لوگ آن کی آن میں دنیا بدل کر رکھ دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان کو اگر مناسب گائیڈ لائینز نہ دی گئیں تو یہ تباہی کی طرف بھی بڑھ سکتے ہیں۔جن کا مظاہرہ آجکل ہم ہر دوسرے ملک میں دیکھ رہے ہیں کہ پل بھر میں تحریک زور پکڑتی ہے کاموں عوام سڑک پہ آتی ہے خونریزی تباہی ہوتی ہے اور حکومتوں کا دھڑن تختہ ہو جاتا یے۔کیکن صرف یہی نہیں ہم نے انفرادی طور پہ بھی دیکھا ہے کہ یہ لوگ اپنی ذات میں تھوڑا انتہا اور تنہاء پسند بھی ہیں۔
اپنے مقاصد و ضروریات کی تکمیل کے لیے ہر کوشش کر سکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جو بعض اوقات خطرناک بھی ثابت ہوء ہیں۔
ایسے میں والدین استاد اور ریاست پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس نسل کے ساتھ جڑ ے رہیں، انھیں اپنے ساتھ لگا کے رکھیں ، اچھے بھلے کی تمیز اور افادیت سے انھیں آگاہ کریں۔
گھر میں چند ضابطے بنائے جائیں کہ کھانا کھاتے وقت موبائل یاس نہیں رکھا جائے گا یا کسی بھی وقت جب سب گھر والے گھر پہ یوں کوء بھی موبائل استعمال نہیں کریگا
جنریشن ذی کے والدین کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ بھی اخلاقیات، روایات اور سیرت نبوی (ص) کا مکمل عملی نمونہ پیش کریں اور بچوں کا پاس بٹھا کر انھیں اس طرف متوجہ کروائیں۔
اس نسل کو یہ سمجھانے کی بھی ضرورت ہے کہ کوء بھی بات یا پیغام آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیں ،کیونکہ ہمارے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ " جب کوء تمھارے پاس پیغام لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح سے تصدیق کر لو" بغیر تحقیق کیے پیغام آگے شیئر نہ کر یں
اساتذہ کا فرض ہے کہ بچوں کو تحقیق کی عادت ڈالیں لائبریری اور ریسرچ سنٹرز سے استفادہ کریں۔
الغرض اس نسل کو بھر پور طریقے سے ساتھ لگا کر اچھے برے میں فرق بتانے کی ضروت ہے۔اپنی تاریخ سے آشنا کرنا بہت اہم ہے۔
ورنہ اتنی ساری ایپس ، گروپس ، تنظیمیں موجود ہیں جو بچوں کے اذہان کو کنٹرول کر کے انھیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
مگر اس توسیع کا دوسرا رخ یہ بھی ہوگا کہ یہ اپنی آنے والی نسل کو سوشل میڈیا اور سکرین کے نقصانات سے آگاہ کر کے انھیں دور رہنے کی نصیحت کریں گے۔