پر امن احتجاج کیلئے جانےوالے ہمارے بہت سے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، ہمارے 90 فیصد سرکاری لوگ عدالتوں کے ذریعے رہا ہوچکے ،باقی بھی جلد رہا ہو جائیں گے
حکومت جعلی پرچے کر کے لوگوں کو تنگ کر رہی ہے لیکن اپنی اس حرکت سے اس نے خود کو ہی ایکسپوز کر دیا، اس بار ہم جائیں گے تو حکومت کا تختہ الٹ کر ہی واپس آئیں گے:میڈیا سے گفتگو
پشاور (آئی این پی )وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے جے یو آئی سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے مولانا فضل الرحمن اپنے قول وفعل میں تضاد پیدا نہ کریں، حکومت جعلی پرچے کر کے لوگوں کو تنگ کر رہی ہے اس حرکت سے اس نے خود کو ہی ایکسپوز کر دیا، اس بار ہم جائیں گے تو پھر حکومت کا تختہ الٹ کر ہی واپس آئیں گے۔تفصیل کے مطابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اٹک جیل سے رہا ہونے والے سرکاری ملازمین کا استقبال کیا جنہیں ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا ۔وزیراعلی کے پی علی امین گنڈا پور نے ڈی چوک احتجاج کے دوران پکڑے گئے 42 ریسکیو اہلکاروں کو رہائی کے بعد ملاقات کے لیے وزیراعلی ہاؤس کے پی بلایا۔ اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا مولانا فضل الرحمن کو چاہیے وہ اپنے قول و فعل میں تضاد پیدا نہ کریں۔ اگر آج دوبارہ الیکشن ہوں تو جے یو آئی (ف ) ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکتی۔ پر امن احتجاج کے لیے جانے والے ہمارے بہت سے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ ہمارے 90 فیصد سرکاری لوگ عدالتوں کے ذریعے رہا ہوچکے ہیں، کچھ لوگ باقی رہ گئے ہیں وہ بھی جلد رہا ہو جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے خلاف غیر قانونی مقدموں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت جعلی پرچے کر کے لوگوں کو تنگ کر رہی ے لیکن اپنی اس حرکت سے اس نے خود کو ہی ایکسپوز کر دیا ہے۔علی امین گنڈاپور نے واضح طور پر کہا کہ اس بار ہم جائیں گے تو پھر حکومت کا تختہ الٹ کر ہی واپس آئیں گے۔