مالٹا کے سمندر میں اسرائیلی ڈرون حملہ؛ غزہ جانے والا امدادی جہاز نشانہ بن گیا

مالٹا کے سمندر میں اسرائیلی ڈرون حملہ؛ غزہ جانے والا امدادی جہاز نشانہ بن گیا

مالٹا کے سمندر میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور رضاکاروں کو غزہ لے جانے والے بحری جہاز پر مبینہ طور پر اسرائیل کی جانب سے ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فریڈم فلوٹیلا کولیشن نامی بین الاقوامی تنظیم نے بتایا کہ حملہ جہاز ’کونشس‘ پر ہوا، جو فلسطینی علاقے غزہ کے محصور عوام کے لیے امدادی سامان اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کو لے جا رہا تھا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد بحری جہاز میں آگ لگ گئی، جسے قریبی ٹگ بوٹ اور مالٹا کے گشت پر مامور عملے نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد بجھایا۔ جہاز میں موجود تمام 16 افراد کو محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔فریڈم فلوٹیلا نے حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے، تاہم مالٹا حکومت نے اس الزام کی نہ تصدیق کی ہے نہ تردید۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جہاز پر 12 عملے کے ارکان اور 4 عام شہری سوار تھے۔

تنظیم نے مالٹا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی سفیروں کو طلب کرکے بین الاقوامی پانیوں میں انسانی بنیادوں پر امداد لے جانے والے جہاز پر حملے کی وضاحت طلب کی جائے اور اس کی مذمت کی جائے۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اسرائیل نے غزہ جانے والے امدادی قافلے کو نشانہ بنایا ہو۔ 2010 میں فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے میں 9 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔یاد رہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی، جس میں اب تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔