اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے 20 مارچ سے لاپتہ ہونے والے شہری نعیم مظفر کے اغوا کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ حکم جسٹس محمد آصف نے شہری کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔
کیس کا پس منظر:
درخواست وقار احمد کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جو لاپتہ نعیم مظفر کا بھائی ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں، جن کے ہمراہ نعیم مظفر کی والدہ بھی موجود تھیں۔ پولیس کی جانب سے ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ اور تھانہ رمنا کے افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل کا مؤقف:
ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کا بھائی 20 مارچ کو اسلام آباد کے علاقے جی-10 میں اپنے گھر سے لاپتہ ہوا۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب ہے جس میں ایک ڈالا اور ایک پولیس کی گاڑی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ وکیل نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ شہری کو بازیاب کرایا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
عدالت کا حکم:
دلائل سننے کے بعد عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ نعیم مظفر کے اغوا کا مقدمہ فوری طور پر درج کیا جائے اور معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔یہ کیس پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور شہری آزادیوں کے حوالے سے جاری بحث کا ایک اور اہم پہلو ہے، خاص طور پر جب عدالتی احکامات کے باوجود لاپتا افراد کی بازیابی کے کیسز اکثر حل طلب رہتے ہیں۔