زرعی شعبے کی نمو 2.9 فیصد، لائیو سٹاک میں 3.8 فیصد اضافہ

گندم، چاول، گنا، چنا، آلو اور پھلوں کی پیداوار میں نمایاں بہتری، مویشیوں کی تعداد بڑھنے لگی
خچروں کی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار اور گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی:اکنامک سروے
اسلام آباد (آن لائن) اکنامک سروے 2025-26 نے ملکی زرعی معیشت کی حوصلہ افزا تصویر پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں مالی سال زرعی شعبے نے مجموعی طور پر 2.9 فیصد جبکہ لائیو اسٹاک کے شعبے نے 3.8 فیصد نمو حاصل کی۔ اہم فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مویشیوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، سروے کے مطابق اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا۔ گندم کی پیداوار 4.3 فیصد اضافے کے ساتھ 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی جبکہ کاشت کا رقبہ 4.4 فیصد بڑھا۔ چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگرچہ اس کی زیر کاشت زمین میں 3.6 فیصد کمی واقع ہوئی۔ گنے کی پیداوار 6.2 فیصد اضافے کے بعد 8 کروڑ 94 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔دوسری جانب مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد اور کپاس کی پیداوار میں 0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کپاس کے زیر کاشت رقبے میں بھی 1.5 فیصد کمی سامنے آئی۔دیگر فصلوں کے شعبے میں 2.4 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی، جہاں چنے کی پیداوار میں غیرمعمولی 50.4 فیصد اضافہ ہوا۔ آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم کی پیداوار 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔ ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد جبکہ مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک میں بھینسوں کی تعداد 3 فیصد اضافے کے بعد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ گائیوں کی تعداد 3.8 فیصد اضافے کے ساتھ 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی۔بکریوں کی تعداد 2.7 فیصد اضافے کے بعد 9 کروڑ 18 لاکھ، بھیڑوں کی تعداد 3 کروڑ 35 لاکھ، اونٹوں کی تعداد تقریباً 11 لاکھ 93 ہزار جبکہ گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی۔ خچروں کی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار اور گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں بالترتیب 1.8 فیصد اور 1.9 فیصد زیادہ ہے۔