1405خواتین کو بازیاب کرالیاگیا کچھ نے شادی کرلی، کچھ اپنے گھروں میں ہیں،لاپتہ 80فیصد نے پسند کی شادیاں کیں:پولیس کی رپورٹ
2ماہ کی مہلت دی جائے:ڈی آئی جی انویسٹی گیش‘ آپ کے پاس6سال تھے، کیا یہ وقت تھوڑا تھا؟یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی ہے: چیف جسٹس کے ریمارکس
لاہور(آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر سے لاپتہ بچیوں کو 15روز میں بازیاب کرانے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ کے پاس6سال تھے، کیا یہ وقت تھوڑا تھا؟یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی ہے۔جبکہ دوسری جانب پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایاگیاہے کہ2021سے اپریل 2026تک لاپتہ 3252 خواتین کے مقدمات درج ہوئے،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب نے کہا ایک ہزار405خواتین کو بازیاب کرالیاگیا، ایک ہزار853لاپتہ خواتین کو بازیاب کرانا باقی ہے۔بازیاب لڑکیاں محفوظ ہیں، کچھ نے شادی کرلی، کچھ اپنے گھروں میں ہیں،لاپتہ 80فیصد خواتین نے پسند کی شادیاں کیں۔یہ رپورٹ پیرکو لاہور ہائیکورٹ میں 4سال پہلے مبینہ لاپتہ لڑکی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کے دوران پیش کی گئی ہے۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب شعیب خرم عدالت پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر سے لاپتہ بچیوں کو 15روز میں بازیاب کرانے کا حکم دیدیا۔عدالت نے ڈی آئی جی کو ہدایت کی کہ لاپتہ لڑکیوں کی بازیابی کیلئے ہدایات جاری کریں،پولیس نے کہاکہ 2021سے اپریل 2026تک لاپتہ 3252 خواتین کے مقدمات درج ہوئے،ڈی ا?ئی جی انویسٹی گیشن پنجاب نے کہاکہ ایک ہزار405خواتین کو بازیاب کرالیاگیا، ایک ہزار853لاپتہ خواتین کو بازیاب کرانا باقی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا لاپتہ خواتین کو بازیاب کرانے کیلئے کتنا وقت چاہئے؟ڈی ا:ئی جی انویسٹی گیشن پنجاب نے استدعا کی 2ماہ کی مہلت دی جائے، چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کہاکہ آپ کے پاس6سال تھے، کیا یہ وقت تھوڑا تھا؟یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی ہے۔بعدازاں عدالت لاپتہ لڑکیوں کی بازیابی کے لیے پولیس کو پندرہ روز کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی