اسلام آباد: بھارتی جارحیت کے حالیہ اقدامات کے تناظر میں پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
وزیر اعظم کی ہدایت پر پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح کثیر الجماعتی وفد مختلف عالمی دارالحکومتوں کے دورے پر ہے تاکہ پاکستان کی امن پسندی، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بھارت کے اشتعال انگیز رویے کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جا سکے۔
بلاول بھٹو وفد کی قیادت کر رہے ہیں
اس وفد کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں۔ وفد نے اب تک واشنگٹن، لندن اور برسلز میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے حکام اور دیگر عالمی نمائندوں سے بھی مشاورت کی گئی۔
وفد میں کون کون شامل ہے؟
وفد میں شامل نمایاں شخصیات درج ذیل ہیں:
ڈاکٹر مصدق مسعود ملک (وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی)
سینیٹر شیری رحمان
حنا ربانی کھر (سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور)
خرم دستگیر خان
فیصل سبزواری
بشریٰ انجم بٹ
سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی
تہمینہ جنجوعہ
وفد کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سفارتی پس منظر رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کا مؤقف زیادہ جامع اور متحد انداز میں پیش کیا جا سکے۔
طارق فاطمی کی قیادت میں دوسرا وفد روس روانہ
دفتر خارجہ کے مطابق سید طارق فاطمی کی قیادت میں ایک اور اعلیٰ سطح وفد ماسکو روانہ ہو گا، جو روسی حکام سے ملاقاتیں کر کے بھارت کی جارحیت اور پاکستان کے موقف پر روشنی ڈالے گا۔
اہم مقاصد
ان دوروں کا بنیادی مقصد عالمی برادری کو آگاہ کرنا ہے کہ:
پاکستان، بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود امن کی راہ پر گامزن ہے۔
کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ناگزیر ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی اور اس کے تحت معمول کے مطابق پانی کی تقسیم پر عملدرآمد کیا جانا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا بیان
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وفود کے دوران عالمی اداروں، پالیسی سازوں، تھنک ٹینکس، میڈیا، سفارتی حلقوں اور تارکین وطن پاکستانیوں سے بھی ملاقاتیں کی جائیں گی۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کا مؤقف تفصیل سے بیان کیا جائے گا اور بھارت کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔