پیپلزپارٹی ارکان نے پنجاب حکومت کی شکایات کے انبار لگا دئیے ، صدر زرداری کی تنظیم سازی پر فوکس کرنے کی ہدایت

ہمارے ترقیاتی کام نہیں ہو رہے پی پی ارکان پھٹ پڑے صدر زرداری
 بلدیاتی ہوں یا عام انتخابات، ہمیں تیار رہنا ہے پنجاب میں پاور شیئرنگ کے فارمولے پر عمل نہیں ہورہا،میں یا بلاول لاہور رہیں تو بہت سے لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے ،ارکان اسمبلی زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کام کروائیں ،عوام سے رابطہ رکھیں:صدر کی ایم پی ایز سے بات چیت 
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے پیپلز پارٹی کے ارکان پنجاب اسمبلی نے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی اورشکایات کے انبار لگا دئیے جبکہ صدرکا کہناتھاکہ ہمیں انتخابات کیلئے تیاررہناہے ،چاہے بلدیاتی الیکشن ہوں یا عام انتخابات ہوں۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاورشیئرنگ کا جو فارمولا طے پایا تھا، اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ہم اس میدان میں نئے کھلاڑی نہیں ہیں، جو کچھ ہو رہا ہے مجھے سب پتا ہے، ہر کسی کی پوزیشن سے واقف ہوں۔ملاقات کے دوران ایک خاتون رکن اسمبلی نے تبصرہ کیا کہ زرداری صاحب، جب آپ لاہور آتے ہیں تو ایوانوں میں زلزلہ آجاتا ہے، جس پر آصف زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے معلوم ہے، اگر میں یا بلاول لاہور میں دو تین دن بیٹھ جائیں تو بہت سے لوگوں کو پریشانی ہونے لگتی ہے اوران کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے تسلیم کیا کہ اس وقت کئی مجبوریاں ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں ملک کے وسیع تر مفاد میں ساتھ چلنا پڑ رہا ہے۔ملاقات میں پیپلز پارٹی کے ارکان پنجاب اسمبلی نے شکوہ کیا کہ انہیں صوبائی حکومت کی جانب سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بعض ارکان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں 8 کلب تک جانے کی اجازت نہیں،ہمارے ترقیاتی کام نظر انداز ہو رہے ہیں، اور جو کام ہو بھی رہے ہیں، وہ بھی سفارش یا منت سماجت کے بعد ہوتے ہیں۔ایک رکن اسمبلی نے بتایا کہ ان کے حلقے میں کئی افراد راشن کارڈ سے محروم ہیں جبکہ کچھ بااثر افراد کے ملازمین تک کو سہولتیں مل رہی ہیں۔ صدر زرداری نے تحفظات کو سن کر کہا مجھے معلوم ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے، اور کس کو کیا فائدہ ہو رہا ہے۔ بیوروکریسی جن کے ساتھ برسوں سے کام کرتی رہی ہو، ان کی تابعداری تو کرے گی ہی۔انہوں نے ہدایت کی کہ ارکان جتنا ممکن ہو ترقیاتی کام کروائیں اور اپنے حلقوں میں زیادہ وقت دیں۔ ایک رکن نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات ہو سکتے ہیں، جس پر آصف زرداری نے جواب دیا کہ ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہے، چاہے بلدیاتی ہوں یا عام انتخابات۔ پارٹی کے داخلی معاملات پر بھی ارکان نے سوالات اٹھائے، جن پر صدر زرداری نے یقین دہانی کروائی کہ ان کے تحفظات متعلقہ ذمہ داران تک پہنچا دئیے گئے ہیں اور ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اور بلاول دونوں پنجاب پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، اور تنظیم سازی پر فوکس ہوگا۔ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت، اس لئے ہمیں اپنے حلقوں میں کام پر توجہ دینی ہوگی۔