لاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کے جاں بحق ہونے والے سانحہ کاہنہ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ارسال کر دی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چھت پر ضرورت سے زیادہ ملبہ ڈالنے کے باعث چھت منہدم ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹی آر گارڈر والی چھت پر بچوں کی موجودگی کے دوران مٹی ڈلوانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل تھا، جبکہ کمزور ڈھانچہ اضافی بوجھ برداشت نہ کر سکا۔تحقیقاتی رپورٹ میں ماہرین کی رائے بھی شامل کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق حادثے کے وقت چھت کے نیچے ایک خاتون ٹیچر اور 20 بچے موجود تھے۔ خاتون ٹیچر مجموعی طور پر 34 بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں، تاہم واقعے کے وقت 20 بچے موجود تھے، جن میں سے 14 جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی اموات سر پر شدید چوٹیں لگنے کے باعث ہوئیں۔ مزید بتایا گیا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تاحال کسی متعلقہ سرکاری ادارے کے اہلکار کی غفلت سامنے نہیں آئی۔
پولیس مقدمہ درج کرکے گھر کے مالک، اس کے بھائی سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے چکی ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر بھر کے ٹیوشن سینٹرز کو بھی حفاظتی ضابطہ کار (ایس او پیز) پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔