ائیر انڈیا کا مسافر بردار طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات سامنے آگئیں

ائیر انڈیا کا مسافر بردار طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات سامنے آگئیں

بھارت کے شہر احمد آباد میں رواں سال جون میں پیش آنے والے ائیر انڈیا کے مسافر بردار طیارے کے حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

 رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طیارے کے دونوں انجنوں کو ایندھن کی فراہمی بند ہو گئی تھی، جس کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا۔

 تحقیقات کے اہم نکات:
 ایندھن کنٹرول سوئچز بند ہوئے
بھارتی ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی رپورٹ کے مطابق، طیارے کے ایندھن کنٹرول کرنے والے دونوں سوئچز صرف ایک سیکنڈ کے فرق سے "CUTOFF" پوزیشن میں چلے گئے تھے۔

 کاک پٹ ریکارڈنگ
ریکارڈنگ میں ایک پائلٹ دوسرے سے حیران ہوکر پوچھتا ہے:

"اس نے کٹ کیوں کیا؟"
جس پر دوسرا جواب دیتا ہے:
"میں نے ایسا نہیں کیا۔"
 خودکار خرابی یا انسانی غلطی؟
رپورٹ میں اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکا کہ سوئچز خودبخود "CUTOFF" پوزیشن میں گئے یا کسی تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی کا نتیجہ تھے۔

 انجن بند، طیارہ تباہ
ایندھن کی سپلائی رکنے کے بعد دونوں انجن بند ہو گئے، جس سے طیارہ زمین کی طرف گرنے لگا اور بالآخر احمد آباد کے نواحی علاقے میں تباہ ہو گیا۔

 جانی نقصان:
حادثے میں 260 افراد جاں بحق ہوئے
ہلاک شدگان میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی شامل تھے
 مزید تحقیقات:
رپورٹ میں بوئنگ کمپنی یا انجن بنانے والی کمپنی کے خلاف فی الوقت کوئی کارروائی تجویز نہیں کی گئی
بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم کو شامل کرنے کا امکان ہے
حادثے سے متعلق تمام ریکارڈز، بلیک باکس، اور طیارے کی باقیات کا مزید تفصیلی معائنہ کیا جائے گا
مکمل رپورٹ آنے میں ایک سال سے زائد کا وقت لگ سکتا ہے
 ماہرین کی رائے:
ماہرین کے مطابق:"یہ انتہائی غیر معمولی بات ہے کہ دونوں انجنز کے ایندھن سوئچز ایک ساتھ بند ہو جائیں۔ ایسا ہونا یا تو سافٹ ویئر گڑبڑ، سسٹمک فالٹ یا کسی عملے کی بے احتیاطی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔"