عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں اضافہ

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں اضافہ

عالمی منڈی میں جمعرات کے روز سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات امریکہ میں توقعات سے کمزور روزگار کے اعداد و شمار اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہیں، جبکہ سرمایہ کار اب امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ کے منتظر ہیں، جو فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی سے متعلق اہم اشارے فراہم کر سکتی ہے۔اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے بعد 4,057.92 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی سونے کے فیوچرز معمولی کمی کے ساتھ 4,070.10 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔بدھ کے روز سونا تقریباً سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب 4,029.89 ڈالر فی اونس پر بند ہوا، تاہم نجی شعبے میں روزگار کے کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد قیمتوں میں دوبارہ بہتری دیکھی گئی۔معاشی ماہرین کے مطابق امریکی نجی شعبے میں ملازمتوں میں 98 ہزار کا اضافہ ہوا، جو مارکیٹ کی توقعات سے کم رہا۔ اس کے بعد سرمایہ کاروں کی توقعات بڑھ گئی ہیں کہ سرکاری روزگار کے اعداد و شمار بھی توقعات سے کم رہ سکتے ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا روایتی طور پر افراطِ زر سے بچاؤ کے لیے محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش نسبتاً کم ہو جاتی ہے کیونکہ اس پر کوئی منافع حاصل نہیں ہوتا۔دوسری جانب فیڈرل ریزرو کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں افراطِ زر کے خدشات میں کمی آئی ہے، تاہم مرکزی بینک اب بھی 2 فیصد افراطِ زر کے ہدف پر قائم ہے۔ادھر خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی سونے کی منڈی کو متاثر کیا ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ پر مرکوز ہیں، جسے عالمی مالیاتی منڈیوں کی آئندہ سمت کے تعین میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔