لاہور(کرائم رپورٹر)ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار مکان کئی دہائیاں پرانا اور بوسیدہ تھا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ عمارت کی دیواروں اور چھت میں عرصہ دراز سے دراڑیں موجود تھیں، مگر اس کے باوجود اسی عمارت میں درجنوں بچوں کو روزانہ ٹیوشن دی جاتی رہی۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر کسی بھی سرکاری ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھا۔ نہ ہی وہاں بچوں کی تعداد کے مطابق حفاظتی انتظامات موجود تھے اور نہ ہی کسی قسم کا ایمرجنسی پلان بنایا گیا تھا۔ جائے حادثہ پر ایک ہی کمرے میں بڑی تعداد میں بچوں کو بٹھایا جاتا تھا، جس سے چھت پر دباؤ مزید بڑھ گیا