قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی خواتین کی 5 مخصوص نشستوں کی بحالی کا فیصلہ

قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی خواتین کی 5 مخصوص نشستوں کی بحالی کا فیصلہ

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا، پنجاب اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی بحالی کا فیصلہ سنا دیا، جس سے پارلیمنٹ میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی ہے۔

خیبرپختونخوا کی مخصوص نشستیں
الیکشن کمیشن کے مطابق خیبرپختونخوا سے خواتین کی 5 مخصوص نشستیں بحال کر دی گئی ہیں:

مسلم لیگ (ن): 2 نشستیں
پاکستان پیپلز پارٹی: 2 نشستیں
جمعیت علمائے اسلام (ف): 1 نشست
یہ فیصلہ ان مخصوص نشستوں پر جاری تنازع کے بعد سامنے آیا جن پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اراکین کے استعفے یا انحراف کے بعد ابہام پیدا ہو گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ان نشستوں کی بحالی قانونی تقاضوں کے مطابق ہوئی ہے۔

پنجاب کی مخصوص نشستیں
پنجاب سے قومی اسمبلی میں خواتین کی 11 مخصوص نشستیں بحال کی گئی ہیں:

مسلم لیگ (ن): 10 نشستیں
پاکستان پیپلز پارٹی: 1 نشست
یہ اقدام پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیسز کے حتمی فیصلے کے بعد کیا گیا ہے، جس کے تحت ان نشستوں پر حق دار جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔

اقلیتوں کی نشستیں
قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی 3 مخصوص نشستیں بھی بحال کر دی گئی ہیں:

مسلم لیگ (ن): 1 نشست
پاکستان پیپلز پارٹی: 1 نشست
جمعیت علمائے اسلام (ف): 1 نشست
الیکشن کمیشن کے مطابق اقلیتی نشستوں کی تقسیم آبادی اور پارلیمانی پوزیشن کے تناسب سے کی گئی ہے۔

پس منظر:
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے بعد خیبرپختونخوا اور پنجاب کی مخصوص نشستوں پر کچھ جماعتوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نشستیں ان کا آئینی حق ہیں۔ عدالتوں میں کیسز بھی زیر سماعت رہے، تاہم اب الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ان نشستوں پر واضح قانونی حیثیت بحال ہو گئی ہے۔

سیاسی اثرات:
اس فیصلے کے بعد حکمران اتحاد خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو پارلیمنٹ میں مزید استحکام حاصل ہو گا، جبکہ جے یو آئی (ف) کو بھی مخصوص نشستوں کی مد میں فائدہ ملا ہے۔