سندھ ہائیکورٹ کا حکومت اور آئی جی سندھ سے 8 لاپتا افراد کی بازیابی پر وضاحت طلب

سندھ ہائیکورٹ کا حکومت اور آئی جی سندھ سے 8 لاپتا افراد کی بازیابی پر وضاحت طلب

سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کے مقدمات پر ہونے والی سماعت سے متعلق ہے، جس میں عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ 

پس منظر: عدالت میں 8 لاپتا افراد، جن میں ایک مدرسے کا طالب علم بھی شامل ہے، کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
عدالتی برہمی: پولیس نے پیش رفت رپورٹ جمع نہیں کرائی، جس پر عدالت نے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سعید آباد کو شوکاز نوٹس جاری کیے۔
اہم ریمارکس: جسٹس ظفر احمد راجپوت نے سوال اٹھایا کہ طالب علم عبد الرحمان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟
وکلاء کے دلائل:

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ بیان ریکارڈ کرلیا گیا لیکن ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔سرکاری وکیل نے کہا کہ مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست کی کاپی فراہم کی جائے۔ عدالت نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی پہلے پیش ہو چکے، اب کاپی کیوں درکار ہے؟
عدالتی احکامات:

سرجانی سے لاپتا یوسف کا مقدمہ درج کرنے کا حکم۔
دیگر لاپتا افراد (عمر فاروق، رانا اقبال، شعیب اقبال، شیراز) کی بازیابی پر رپورٹ طلب۔
سعید آباد سے لاپتا اویس سکندر کے کیس میں بھی نوٹس جاری۔
اگلی سماعت: عدالت نے سندھ حکومت، آئی جی سندھ اور دیگر حکام سے 13 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا۔