تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عالمی توانائی جوہری ادارے (IAEA) کے ساتھ تعاون معطلی کے قانون پر باقاعدہ طور پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ قانون نافذالعمل ہوگیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ قانون گزشتہ ماہ ایرانی پارلیمنٹ نے کثرتِ رائے سے منظور کیا تھا، جس کا مقصد ایران کی جوہری خودمختاری کا تحفظ اور بین الاقوامی دباؤ کا توڑ ہے۔ اس قانون کے تحت ایران، IAEA کے ساتھ رضاکارانہ معائنوں اور اضافی پروٹوکولز پر عملدرآمد روک دے گا۔
امریکی حملے سے شدید نقصان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حملے میں ایران کی جوہری تنصیب فردو کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نقصان کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور جلد ہی رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی۔
تین جوہری تنصیبات پر حملہ
یہ حملے حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران کیے گئے، جن میں امریکا نے ایران کی تین اہم ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ حملے کے بعد ایران کی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس میں IAEA سے تعاون کی معطلی ایک علامتی مگر اہم اقدام کے طور پر سامنے آئی ہے۔
بین الاقوامی ردِ عمل
عالمی سطح پر اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ IAEA اور مغربی طاقتیں پہلے ہی ایران کے جوہری پروگرام پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں، اور تعاون کی معطلی سے مذاکرات کی راہ مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
پسِ منظر
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے (JCPOA) سے علیحدگی کے بعد ایران نے جوہری سرگرمیوں میں تیزی لائی تھی، جس کے بعد مغرب نے نئی پابندیاں عائد کیں۔ تازہ امریکی بمباری اور ایرانی ردعمل خطے میں کشیدگی کو نئی سطح پر لے جا سکتے ہیں۔