پشاور: خیبرپختونخوا کے عوام نے صوبے میں جاری دہشت گردی کی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کا پُرزور مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک پس پردہ معاونین اور مالی مددگاروں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، صوبے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔
شہریوں کے جذبات:
صوبے کے مختلف علاقوں سے سامنے آنے والے ویڈیو بیانات اور عوامی ردعمل میں شہریوں نے کہا کہ:"دہشت گردی کے خلاف آپریشن تب تک نامکمل ہے جب تک سہولت کاروں کو بے نقاب نہیں کیا جاتا۔""یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر معاشرے کا حصہ ہیں مگر پس پردہ تخریبی سرگرمیوں کے معاون ہیں۔""فتنہ الخوارج کے خلاف کامیابی ان کے سہولت کار نیٹ ورک کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔"
عوامی مطالبات:
ریاستی ادارے اس معاملے کو صرف آپریشنل سطح پر نہ لیں بلکہ انٹیلیجنس اور قانونی دائرہ کار میں بھی توسیع کریں۔فنانسنگ، اسلحہ کی فراہمی، اور پناہ گاہوں کی فراہمی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔پراسیکیوشن اور عدالتی کارروائیوں کو تیز کیا جائے تاکہ ملزمان کو جلد سزا ملے۔
پس منظر:
یہ عوامی مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کئی علاقوں میں پولیس، فوج اور عام شہری دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جس پر عوامی سطح پر شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
نتیجہ:
عوام کی یہ رائے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ نہ صرف امن چاہتے ہیں بلکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کی سنجیدہ اور بے لاگ کارروائی کے متقاضی ہیں۔ اب یہ ریاست پر منحصر ہے کہ وہ عوامی جذبات کا ادراک کرتے ہوئے کتنی تیزی سے سہولت کار نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرتی ہے۔