حکومت کا پیٹرول پمپس کو ڈیجیٹلائز کرنے کا بڑا منصوبہ، سمگلنگ اور ٹیکس چوری پر قابو پانے کا ہدف

حکومت کا پیٹرول پمپس کو ڈیجیٹلائز کرنے کا بڑا منصوبہ، سمگلنگ اور ٹیکس چوری پر قابو پانے کا ہدف

حکومت نے ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس کو ڈیجیٹل نظام سے لیس کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے تاکہ فیول کی سمگلنگ، بے ضابطگیوں اور ٹیکس چوری کا مؤثر انداز میں خاتمہ کیا جا سکے۔

 اس منصوبے کے تحت پیٹرول پمپس پر آنے والا ہر لیٹر فیول، اس کی ترسیل اور فروخت کا مکمل ریکارڈ آن لائن محفوظ ہوگا۔

 پہلا مکمل ڈیجیٹل پیٹرول پمپ کراچی میں فعال
آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین ملک خدا بخش کے مطابق، کراچی میں ان کا پیٹرول پمپ مکمل طور پر ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل ہو چکا ہے۔ یہ سسٹم شیل کمپنی نے انسٹال کیا ہے جس کے ذریعے:

ہر آئل ٹینکر سے کتنی مقدار میں فیول آیا،
پیٹرول پمپ کی کس مشین سے کتنا فیول نکالا گیا،
کس گاڑی یا موٹر سائیکل میں کتنی مالیت کا فیول ڈالا گیا،
ان تمام معلومات کا مکمل آن لائن ریکارڈ تیار ہوتا ہے۔
 سسٹم کی وسعت اور چیلنجز
ملک خدا بخش کے مطابق:ملک بھر میں 12 ہزار سے زائد پیٹرول پمپس موجود ہیں، جنہیں ڈیجیٹلائز کرنا آسان عمل نہیں ہوگا۔سسٹم کے مؤثر نفاذ کے لیے آئل ٹینکرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کو بھی ڈیجیٹل سسٹم سے منسلک کرنا ہوگا۔او ایم سی سے نکلنے والے فیول کا بھی آن لائن ریکارڈ رکھا جائے گا، تاکہ پیٹرول پمپ پر فروخت ہونے والے فیول کی مقدار میں شفافیت رہے۔
 انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ
ملک خدا بخش نے کہا کہ:"شہری علاقوں میں تو یہ نظام قابل عمل ہے، لیکن وہ دیہی علاقے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت ہی دستیاب نہیں، وہاں ڈیجیٹل نظام کیسے کام کرے گا؟"
انہوں نے تجویز دی کہ حکومت یہ نظام تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نافذ کرے تاکہ عملدرآمد میں درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔

 حکومت کا مقصد
ذرائع کے مطابق حکومت اس اقدام سے:

فیول سمگلنگ کی روک تھام
ٹیکس کی مکمل وصولی
فیول ٹریڈ میں شفافیت
کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔
ڈیجیٹلائزیشن کے اس قومی منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، اور آئندہ دنوں میں وزارت پیٹرولیم اور متعلقہ ادارے اس پر عمل درآمد کی حتمی حکمتِ عملی پیش کریں گے۔