سعودی عرب کی جانب سے خطے میں قیام امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
یہ اظہارِ تشکر پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی جانب سے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کیا گیا۔
دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی سطح پر باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے دلی محبت اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
شہزادہ محمد بن سلمان سے حالیہ گفتگو کا حوالہ
وزیراعظم نے 24 جون کو سعودی ولی عہد کے ساتھ ہونے والی اپنی ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، وہ قابلِ تحسین اور لائقِ تقلید ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے قیام میں سعودی عرب کے تعمیری کردار کو سراہا اور اسے خطے میں دیرپا استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
سلامتی کونسل کی صدارت اور سعودی حمایت
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان نے جولائی 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی عبوری صدارت سنبھالی ہے، اور پاکستان اس پلیٹ فارم پر بھی سعودی عرب کے ساتھ قریبی مشاورت و حمایت کے ساتھ عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
سعودی سفیر کی طرف سے شکریہ و اعتماد کا اظہار
سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات کے دوران پاکستان کے امن و استحکام کے لیے کیے جانے والے مستقل اقدامات کو سراہا اور خطے میں مثبت کردار ادا کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت پاکستان کے ساتھ قریبی اور قابل اعتماد تعلقات کو بے حد اہمیت دیتی ہے۔
مستقبل میں تعلقات مزید مستحکم کرنے پر اتفاق
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ دونوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوستی، اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو آئندہ بھی وسعت دی جاتی رہے گی۔
پس منظر
پاکستان اور سعودی عرب تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور اسٹریٹجک تعلقات سے جُڑے ہوئے قریبی اتحادی ہیں۔ دونوں ممالک خطے کے اہم سیکیورٹی معاملات، اسلامی دنیا کے اتحاد اور اقتصادی تعاون میں کلیدی کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔