ریاستی ادارے اور حکومت اگر بروقت حرکت میں آتی تو قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، سستی اور نااہلی دراصل قتل کے مترادف
اے این پی پنجاب کے صوبائی جنرل سیکرٹری کی ڈسکہ آمد،سانحہ سوات کے متاثرہ خاندان سے ملاقات ،تعزیت کی، اظہاریکجہتی
لاہور(خصوصی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کے صوبائی جنرل سیکرٹری امیر بہادر خان ہوتی نے سانحہ سوات کے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے متاثرہ گھرانے سے دلی تعزیت اور اظہار یکجہتی کیا۔امیر بہادر خان ہوتی نے خیبر پختونخوا حکومت کی غفلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ نہیں، ایک اجتماعی قتل ہے اور اس قتل میں خیبر پختونخوا کی حکومت براہ راست شریکِ جرم ہے۔صوبائی جنرل سیکرٹری نے سانحے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور واضح الفاظ میں کہا کہ سیلابی ریلے میں لوگوں کی اموات کوئی قدرتی آفت نہیں، بل کہ ایک مجرمانہ لاپروائی کا نتیجہ ہیں، ریاستی ادارے اور حکومت اگر بروقت حرکت میں آتی تو یہ قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، یہ سستی اور نااہلی دراصل قتل کے مترادف ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس بدترین غفلت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوراً مستعفی ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ریاست ماں بننے کے بجائے قاتل بن جائے تو عوام کہاں جائیں؟ ،عوامی نیشنل پارٹی ایسے ظلم پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔جنرل سیکرٹری نے متاثرہ خاندان سے خیبر پختونخوا کی عوام کی جانب سے باقاعدہ معافی مانگی اور یقین دہانی کروائی کہ اے این پی اس خاندان کو انصاف دلوانے کے لیے ہر قانونی، سیاسی اور جمہوری پلیٹ فارم پر آواز بلند کرے گی۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کے صوبائی سالار اعلیٰ یونس خان، صوبائی جوائنٹ سیکرٹری نعمت اللہ اور دیگر صوبائی عہدیداران بھی جنرل سیکرٹری امیر بہادرخان ہوتی کے ہمراہ موجود تھے۔