واقعہ بارش کے باعث اچانک پانی کا بہائو بڑھنے سے پیش آیا،چند گھنٹوں میںپانی کا بہائو77782کیوسک ہوگیا
ریلے سے متعلق تمام متعلقہ اداروں کو بروقت وارننگ جاری کردی تھی، سوات واقعے پر محکمہ آبپاشی کی رپورٹ جاری
ریسکیو 1122کو فلڈ ریسکیو آلات مہیا کرنے، سیاحتی علاقوں میں داخلہ محدود اور ہوٹل مالکان کو پابند بنانے کی سفارش
پشاور(آئی این پی )دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے واقعے پر محکمہ آبپاشی نے کہا ہے کہ سیلاب سے متعلق تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی وارننگ جاری کردی گئی تھی۔ واقعہ شدید بارش کے باعث اچانک پانی کا بہائو بڑھنے سے پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق27جون کو خوازہ خیلہ کے مقام پر دریا کا بہائوچند گھنٹوں میں 6738کیوسک سے بڑھ کر 77782کیوسک ہوگیا تھا،محکمہ آبپاشی نے ریلے سے متعلق تمام متعلقہ اداروں کو صبح 8:41پر وارننگ جاری کردی تھی اور اسکی ڈی سی سوات، چارسدہ اور نوشہرہ کو بھی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 27جون کو واٹس ایپ پر تمام حکام کو دریا کے بہا ئوکی مسلسل اپڈیٹس دیتے رہے، صبح 10:30بجے ہی شدید سیلاب کا انتباہ جاری کردیا تھا۔ محکمہ آبپاشی کی رپورٹ کے مطابق ڈی سی، پی ڈی ایم اے، اے ڈی سی ریلیف اور دیگر اداروں کو کئی بار الرٹ بھیجے تھے، محکمہ نے بروقت ایمرجنسی کی اطلاع دے دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق خوازہ خیلہ کے مقام پر سیاح معمول کے بہا ئومیں دریا کے بیچ داخل ہوئے اور پھنس گئے، واقعہ شدید بارش کے باعث اچانک پانی کا بہاو بڑھنے سے پیش آیا۔ 2022کے بعد دریا کے بہا ئومیں مٹی بھر جانے سے سیاح ندی کے اندر تک جارہے ہیں۔ محکمہ آبپاشی نے اپنی رپورٹ میں ریسکیو 1122کو فلڈ ریسکیو آلات مہیا کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ سیاحتی علاقوں میں داخلہ محدود کرنے اور ہوٹل مالکان کو پابند بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مقامی انتظامیہ کو سیاحوں کو محفوظ مقام تک محدود رکھنے کے لیے پالیسی بنانے کی تجویز دی ہے، مدین اور کالام میں اضافی ٹیلی میٹری گیجز لگانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ محکمہ آبپاشی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہوٹل مالکان کو پابند کیا جائے کہ سیلابی جگہوں پر سیاحوں کو نہ جانے دیں۔