آسٹریلوی بیٹر عثمان خواجہ نے کہا ہے کہ انہیں اب تک نسلی تعصبات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 39 سالہ خواجہ اپنا آخری میچ 88 واں انگلینڈ کے خلاف سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلیں گے، وہیں جہاں انہوں نے 2011 میں اپنا ڈبیو کیا تھا۔
خواجہ، جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے پہلے مسلم کھلاڑی بنے، نے جذباتی کانفرنس میں کہا:"میں ایک فخر سے بھرپور مسلمان، پاکستان سے آیا ہوا رنگین لڑکا ہوں، جسے کہا گیا تھا کہ وہ کبھی آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیلے گا۔ دیکھو آج کہاں کھڑا ہوں۔"انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا اور سابق کرکٹرز کی جانب سے ان پر لگائی جانے والی تنقید کو وہ "دقیانوسی نسلی تصورات" قرار دیتے ہیں۔ عثمان خواجہ کے مطابق، میڈیا اور سابق کھلاڑیوں نے انہیں "سست"، "خودغرض" اور "غیر پرعزم" قرار دیا، جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تنقید صرف ان کے نام اور پس منظر کی وجہ سے ہے۔خواجہ نے مثال دی کہ جب دیگر کھلاڑی شراب پینے یا گالف کھیلنے کے بعد زخمی ہوتے ہیں تو انہیں "لڑکوں کی شرارت" سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کے ساتھ ایسا ہونے پر ان کی نیت اور محنت پر سوال اٹھائے گئے۔
انہوں نے کہا:"میں چاہتا ہوں کہ اگلا عثمان خواجہ آسان سفر کرے، اور اسے جان سمتھ کی طرح ہی سمجھا جائے۔"ریٹائرمنٹ کے اعلان کے موقع پر انہوں نے کہا:"آسٹریلوی کرکٹ اب بھی بہت سفید (وائٹ) ہے، لیکن ہم بہتر اور زیادہ شمولیتی معاشرہ بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔"واضح رہے کہ عثمان خواجہ نے چھ ایشیز سیریز کھیلیں، جن میں دو جیتیں، دو ہاریں اور دو برابر رہیں۔ وہ 2023 میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ گھریلو کرکٹ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔