وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پورے ملک کو ایک صفحے پر آنا ہوگا اور اس ناسور کو کچلنے کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔
انہوں نے یہ بات اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
دہشت گردی کیخلاف اقدامات
وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی چیلنجنگ ہے اور افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فورسز دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہی ہیں، اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے ان کی قربانیاں ناگزیر ہیں۔
معاشی ترقی اور چیلنجز
وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کے ساڑھے نو ماہ کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، لیکن ان تمام چیلنجز کے باوجود حکومت نے معاشی استحکام کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی برآمدات سے زرمبادلہ کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ تاریخی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، جس سے معیشت کی ترقی کا واضح اشارہ ملتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے برآمدات بڑھانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
میکرو اکنامک انڈیکیٹرز میں بہتری
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے باعث میکرو اکنامک انڈیکیٹرز میں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی 4.1 فیصد تک کم ہوئی ہے اور ترسیلات زر میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو ملک کی معاشی استحکام کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔
باہمی تعاون اور معاہدات
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کے ساتھ معاشی اور تجارتی معاہدے ہوئے ہیں، جو ملک کے معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، اور سب اس بات کے خواہاں ہیں کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات میں مزید اضافہ ہو۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات
وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے دن رات کام ہو رہا ہے، اور اس شعبے میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے محصولات کے لیے انفورسمنٹ کے اقدامات کیے ہیں، اور یہ کامیابیاں حکومت کی ٹیم مینجمنٹ کی مرہون منت ہیں۔
پاراچنار واقعہ اور قومی یکجہتی
شہباز شریف نے پاراچنار میں ہونے والے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے میں شریک تمام فریقوں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاراچنار واقعہ میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت پر انتہائی افسوس ہے اور اس قسم کے واقعات کا دوبارہ نہ ہونے دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیصلے ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہوکر کیے جائیں گے اور اس کے لیے اللہ کی نصرت حاصل ہو گی۔