وفاقی کابینہ اجلاس: پی ٹی اے ممبران و چیئرمین کی تنخواہوں اور مراعات کے طریقہ کار اورانفارمیشن گروپ کے افسروں کو بیرون ملک تعینات کرنے کی پالیسی کی منظوری

 معاشی استحکام آگیا، اب ٹیک آف کرینگے شہبازشریف

دھرنوں کی سیاست نے معیشت کا دھڑن تختہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،  سال کے آغاز پر پاکستان کی خوشحالی کیلئے دعا گو ہیں،آئی ایم ایف سے طے شدہ اہداف کو اگلے چھ ماہ میں حاصل کرنا ہوگا‘برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے
سمگلنگ کے خاتمے کا کریڈٹ آرمی چیف کو جاتا ہے‘سابق حکومت نے نہ جانے کس زعم اور کس ذہن سے فیصلہ کیا جو سینکڑوں دہشت گردوں کو آزاد کردیا اور کئی دہشت گرد یہاں پر آگئے‘قربانیا ں ضرور رنگ لائیں گی :کابینہ اجلاس سے خطاب 

اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  گزشتہ 9 ماہ دھرنوں کی سیاست نے معیشت کا دھڑن تختہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،نئے سال کے آغاز پر پاکستان کی خوشحالی کیلئے دعا گو ہیں، معاشی استحکام حاصل کرلیا، اب ٹیک آف کرنا ہے، آئی ایم ایف سے طے شدہ اہداف کو اگلے چھ ماہ میں حاصل کرنا ہوگا،اڑان پاکستان پروگرام نیک شگون ثابت ہوگا،  ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، برآمدات میں اضافے کے سوا ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے،اسمگلنگ کے خاتمے کا کریڈٹ آرمی چیف کو جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ نئے سال کےآغاز میں پاکستان کی خوشحالی کیلئے دعاگو ہوں، ہم ثابت قدمی اور محنت کے ساتھ اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے کاوشیں کیں تو اڑان پاکستاں نئے سال میں نیک شگون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ہے تو برآمدات پر مبنی ترقی کے سوا ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے، نمو کے شعبے میں استحکام اور ترقی آچکی، اسے حوالے سے اے ڈی آر( ایڈوانس ٹو ڈیپازٹ ریشو)  کی مد میں پیش رفت کو سراہا جانا چاہیے جس کے نتیجے 72 ارب ڈالر کی محصولات خزانے میں آئی ہیں اور محصولات کے حوالے سے آئی ایم ایف کا دسمبر کا 97 فیصد ہدف حاصل ہوگیا ہے‘وزیراعظم نے کہا چینی کی افغانستان اسمگلنگ مکمل طور پر بند ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں گنجائش پیدا ہوئی اور ہم چینی برآمد کرنے کے قال ہوگئے، اس کا کریڈٹ رانا تنویر، اداروں اور آرمی چیف کو جاتا ہے،  تیل کی اسمگلنگ میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مالی سال کے 5 ماہ میں ترسیلات زر 15 ارب ڈالر رہی ہیں اور یہی رفتار برقرار رہی تو ترسیلات زر 35 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی جو تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ ہوگا‘ حکومتی شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 9 ماہ میں کسی میں کوئی ایک قابل ذکر اسکینڈل لانے کی بھی جرات نہیں ہوئی۔شہباز شریف نے کہا کہ اب ہم ترقی کی اڑان کے مرحلے کی طرف بڑھنا ہے، گوکہ کارکردگی پچھلے سال سے کہیں زیادہ بہتر ہے تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف میں کافی فرق موجود ہے  اور ان اہداف کو آئندہ چھ ماہ میں حاصل کرنا ہوگا۔دریں اثناء وفاقی کابینہ نے  زندگی بچانے والے میڈیکل آلات کی قیمتوں کی تعین کے لئے کمیٹی کی تشکیل نو ‘پی ٹی اے کے ممبران  اور چیئرمین کی تنخواہوں اور مراعات کا طریقہ کار اورانفارمیشن گروپ کے افسران کو ملک انفارمیشن سیکشنز میں تعینات کرنے کیلئے پالیسی کی بھی  منظوری دیدی ہے تاہم سٹیزن شپ ایکٹ میں ترامیم کی توثیق مؤخر کر دی گئی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کہ گوادر بندرگاہ سے پچھلے تین ماہ میں پبلک سیکٹر درآمدات کی تفصیلات وفاقی کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کی جائیں۔