وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے صحت، تعلیم و ہنر، معدنیات، توانائی اور کلائمیٹ رزیلینس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عالمی بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں اور ان شعبوں میں خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔صوبائی حکومت پرائمری ہیلتھ کیئر کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔خیبر پختونخوا میں ’’احساس ماں‘‘ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ماں اور بچے کی مکمل دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہوگی، اور بچی کی پیدائش پر تین ماہ اضافی معاونت دی جائے گی۔صوبے کی 100 فیصد آبادی کو یونیورسل ہیلتھ کوریج فراہم کی جا رہی ہے۔
قدرتی آفات اور کلائمیٹ رزیلینس کے لیے سرمایہ کاری بڑھائی جا رہی ہے۔معدنیات کے شعبے میں مقامی آبادی کے مفادات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔صوبے کو غذائی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور جنوبی اضلاع میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے منصوبے جاری ہیں۔ملاقات میں مشیر خزانہ مزمل اسلم، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔