9 مئی کے مظاہروں کے بعد پاکستان میں فوجی عدالتوں کی جانب سے 25 شہریوں کو سزا سنانے کے فیصلے پر امریکا، یورپی یونین، اور برطانیہ نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی ردعمل:
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کو فوجی عدالتوں میں چلائے جانے والے مقدمات اور دی جانے والی سزاؤں پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں عدالتی آزادی، شفافیت، اور مناسب قانونی عمل کی ضمانتوں کا فقدان ہے۔ امریکا نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ آئین میں درج منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کا احترام کریں۔
یورپی یونین کا موقف:
یورپی یونین نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے خلاف فیصلے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔ یورپی یونین نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور انہیں منصفانہ ٹرائل کی ضمانت فراہم کرے۔
برطانوی بیان:
برطانیہ نے بھی اس فیصلے پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے قانونی عمل میں مداخلت نہیں کرتا اور پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، لیکن فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت اور آزادانہ جانچ پڑتال کی کمی ہے۔
بین الاقوامی تنقید:
یہ ردعمل عالمی سطح پر پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کو اجاگر کرتا ہے۔ خاص طور پر 9 مئی کے واقعات کے بعد مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے استعمال کو کئی حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے چیلنج:
پاکستانی حکومت اور ادارے اس بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں اندرونی اور بیرونی سطح پر اپنی قانونی حکمت عملی پر نظرثانی کر سکتے ہیں، تاکہ انسانی حقوق کے حوالے سے تحفظات کو دور کیا جا سکے اور منصفانہ ٹرائل کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔