پاکستان کی اداکارہ ماہرہ خان اور سجل علی نے کراچی میں پیش آنے والے دلخراش واقعے پر گہرا افسوس اور غم کا اظہار کیا ہے، جس میں ایک بچے، ابراہیم، گٹر کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا ہے۔
یہ حادثہ نیپا فلائی اوور کے قریب پیش آیا، جہاں بچے کے غمگین والدین اور خاندان کی حالت انتہائی کربناک تھی۔ بچے کی لاش کو 14 گھنٹوں کی سخت تلاش کے بعد نالے سے نکالا گیا، اور اس کی نماز جنازہ شاہ فیصل کالونی میں ادا کی گئی۔ماہرہ خان نے ایک ویڈیو پیغام میں بچے اور اس کے والدہ کی بے بسی کو دیکھ کر آنسو بہائے اور سوال اٹھایا کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل تصور بے حسی ہے کہ ایسا واقعہ ہو اور ذمہ داروں کا تعین نہ کیا جائے۔ انہوں نے نظام کی نااہلی اور انتظامیہ کی غفلت پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سب ناقابل برداشت ہے۔ ماہرہ خان نے سوال کیا کہ آخر اس سب کا جواب دہ کون ہے؟ اور کیوں ہمارے نظام میں کوئی فعال نظام موجود نہیں ہے جو لوگوں کی حفاظت کر سکے۔
سجل علی نے بھی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک جذباتی پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور دل ٹوٹ گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس بچے کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ انہوں نے کراچی کے بگڑتے ہوئے نظام اور انتظامیہ کی نااہلی پر سوالات کیے۔ سجل علی نے کہا کہ ہمارے شہر کا نظام ناکام ہے، اور بچے کی جان جانے کے بعد ہمیں اپنی غفلت کا احساس ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا شہر جو لاکھوں لوگوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، وہاں نہ سڑکیں ہیں اور نہ ہی کوئی مؤثر نظام، جو لوگوں کو تحفظ فراہم کر سکے۔
مزید برآں، بچے ابراہیم کے نانا نے میئر کراچی سے استعفے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ ووٹ لینے کے لیے سب آتے ہیں، مگر کسی نے مدد نہیں کی۔ انہوں نے اس غمناک واقعے کے بعد حکومت اور انتظامیہ سے ذمہ داری کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں میں غم و غصہ پھیل گیا ہے، اور یہ واقعہ کراچی کی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہا ہے، خاص طور پر اس نظام کی نااہلی اور غفلت کے حوالے سے۔یہ واقعہ نہ صرف شہر کی انتظامی کمیوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی عکاس ہے کہ کس طرح غریب اور بے بس عوام نظام کی ناتوانی کا شکار ہیں۔ بچے کے والدین اور خاندان اس غم کو جھیل رہے ہیں، جبکہ عوام اور سوشل میڈیا پر بھی اس حادثے کو لے کر غم اور غصہ کا اظہار جاری ہے۔