لندن (آئی این پی )برطانیہ کے ایک سابق سینیئر برطانوی فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ افغانستان میں سپیشل فورسز کے اہلکاروں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور چین آف کمانڈ کو بھی اس کے بارے میں معلوم تھا مگر اس کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق فوجی اہلکار نے یہ بیان اس انکوائری ٹیم کے سامنے دیا ہے جس نے افغانستان میں فوجیوں کی جانب سے مشکوک طور پر 54 افراد کی ہلاکت کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔اہلکار کا کہنا تھا کہ سپیشل فورسز کے اہلکار مشتبہ افراد کو بغیر کسی تحقیق کے موت کے گھاٹ اتارتے نظر آئے۔برطانوی وزارت دفاع کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں 2010 کے وسط سے 2013 کے وسط تک رات کے وقت مارے گئے چھاپوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس وقت برطانوی فوج اس اتحاد کا حصہ تھی جس کی قیادت امریکہ کر رہا تھا۔اس سے قبل بھی ملٹری پولیس کئی ایسے الزامات کی طرف اشارہ کر چکی ہے مگر وزارت دفاع کا کہنا ہے اس بارے میں کی جانے والی تحقیقات میں زیادہ ثبوت نہیں ملے۔اس انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا ماورائے عدالت قتلوں کے بارے میں دی گئی معلومات درست تھیں یا نہیں، کیا تحقیقات شفاف تھیں اور کیا غیرقانونی طور پر کی گئی ہلاکتوں کو چھپانا گیا