واشنگٹن حملہ، افغان تارکِ وطن امریکہ میں آکر انتہا پسند بنا، ہوم لینڈ سیکرٹری

29 سالہ افغان شدید ذہنی تنائو، تنہائی اور غیر مستحکم طرزِ زندگی کا شکار تھا، رپورٹ
واشنگٹن (آئی  این پی )امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر حملہ کرنے والا افغان تارکِ وطن افغانستان میں نہیں بلکہ  امریکہ آ کر انتہا پسندی کا شکار ہوا۔امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے   امریکی نیوز چینل این بی سی  سے  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے کا ملزم رحمان اللہ لکنوال واشنگٹن اسٹیٹ میں رہائش کے دوران انتہا پسندانہ سوچ کا حامل ہوا۔ امریکی حکام اس کے خاندان اور قریبی لوگوں سے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حکام کے مطابق 29 سالہ لکنوال وہ شخص ہے جس نے بدھ کے روز وائٹ ہائو س سے چند بلاکس کے فاصلے پر نیشنل گارڈ اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا تھا۔ حملے کے فورا بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اس واقعے کا الزام سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں افغان شہریوں کی ناکافی اسکریننگ پر عائد کیا، حالانکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق لکنوال کو پناہ   خود ٹرمپ انتظامیہ نے اپریل میں دی تھی۔لکنوال 2021 میں اس وقت امریکا آیا تھا جب بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے ان شہریوں کے انخلا کا بڑا عمل شروع کیا جو دو دہائیوں کی جنگ میں امریکی افواج کے معاون تھے۔ رپورٹس کے مطابق وہ افغانستان میں سی آئی اے کی حمایت یافتہ ایک یونٹ سے وابستہ تھا۔کرسٹی نوم کا کہنا تھا کہ ثبوتوں سے لگتا ہے کہ امریکا آمد کے بعد ہی اس کے خیالات تبدیل ہوئے اور وہ انتہا پسند حلقوں کے اثر میں آیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لکن وال کے آس پاس موجود افراد سے تحقیقات جاری ہیں اور اگر کسی نے مدد کی یا معلومات چھپائیں تو کارروائی ہوگی