انٹرنیٹ ڈائون ، اربوں روپے کا جھٹکا
3ارب یومیہ منافع کمانے والا ٹیلی کام سیکٹر نیٹ کی سست روی کی وجہ سے بری طرح متاثر ، ملکی معیشت اور جی ڈی پی پر منفی اثرات،وی پی این رجسٹریشن پر 30 لاکھ فری لانسرز متاثر ہونگے، پاشا، حکومت محفوظ کمیونیکیشنز کی ضرورت سے واقف، شزا فاطمہ
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )انٹرنیٹ ڈائون ہونے سے اربوں روپے کا جھٹکا لگا،انٹرنیٹ کی سست روی جاری ہے ، پاکستانی معیشت کو اربوں روپیکا نقصان ہو رہا ہے۔جبکہ وزیر مملکت آئی ٹی شزا فاطمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نیٹ مکمل فعال ہے،ایکس کی بندش کا مطلب اظہارِ رائے پر پابندی نہیں۔ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سافٹ وئیر ہائوس ایسوسی ایشن (پاشا) کے چیئرمین سجاد مصطفیٰ سید کا کہنا تھا وی پی این کی رجسٹریشن اور انٹرنیٹ کے مسائل کے باعث بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے ملک سے باہر جانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ وی پی این کی رجسٹریشن کے معاملے پر 30 لاکھ فری لانسرز متاثر ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جو 100 سے 200 ڈالر کماتے ہیں، اب انہیں کام ملے گا تو وہ کہیں گے کہ 8 گھنٹے انتظار کریں پی ٹی اے ہمیں اجازت دیگی تو ہم آگے کام کر سکیں گے تو پھر ایسے حالات میں تو کوئی بھی کمپنی انہیں کام ہیں دے گی۔ادھر ملک کے بیشتر شہروں میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہونے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں، وائی فائی ہو یا موبائل ڈیٹا سروس کسی بھی صورت انٹرنیٹ کا استعمال ذہنی کوفت کا سبب بنے لگا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی سست روی سے ملکی معیشت اور جی ڈی پی پر منفی اثرات آنے لگے ہیں اور اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ کی ہدایت کے مطابق ایکس کو بند کیا گیا، ایکس کی بندش کا مطلب اظہار آزادی رائے پر پابندی ہرگز نہیں۔اپنے بیان میں وزیر مملکت شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ ملک پر سائبر حملے ہوتے ہیں ، سائبر سکیورٹی وقت کی ضرورت ہے، پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم لوگ ایکس استعمال کرتے ہیں۔وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ ملک میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کی بندش کا خطرہ فی الحال ٹل گیا۔حکومت نے وی پی این کی رجسٹریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے کہ حکومت محفوظ کمیونیکیشنز کی ضرورت سے پوری طرح واقف ہے۔انہوں نے کہا کہ وی پی این کی ایکٹویشن اور استعمال کا عمل مزید ہموار کرنے کا کام کررہیہیں، وی پی این کی ایکٹیویشن کیعمل تک صورت حال جوں کی توں رہے گی۔ اس حوالے سے آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا عمومی طور پر ٹیلی کام سیکٹر کا منافع 3 ارب روپے یومیہ ہے لیکن انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث ملکی معیشت اور جی ڈی پی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر کا 60 سے 70 فیصد یومیہ منافع 3 جی، 4 جی نیٹ ورک سے جڑا ہے لیکن انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ سے ٹیلی کام سیکٹر بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔