لندن (آن لائن) ایورسٹ بیس کیمپ میں ایندھن کے استعمال اور گلیشیئر پر براہِ راست پیشاب کیے جانے سے ہر سال تقریباً 2 ہزار 500 ٹن برف اور برفانی تودے پگھلنے کا انکشاف ہوا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے نیپال کی جانب قائم بیس کیمپ میں انسانی سرگرمیاں گلیشیئر پر نمایاں اثرات مرتب کر رہی ہیں۔بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے نیپال کے کھمبو گلیشیئر کا مطالعہ کیا، جہاں ایورسٹ بیس کیمپ واقع ہے۔تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے ریجنل انوائرنمنٹل چینج میں شائع کیے گئے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ موسم بہار کی کوہ پیمائی کے سیزن کے دوران ہزاروں کوہ پیما، گائیڈز اور معاون عملہ بیس کیمپ میں جمع ہوتے ہیں۔بیس کیمپ میں اس عرصے کے دوران ایسپریسو کیفے، بڑی اسکرین والے ٹی وی، تیز رفتار انٹرنیٹ، گرم شاورز اور خیموں کے فرش کو گرم رکھنے جیسی سہولیات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔تحقیق کے مطابق 2023 کے موسم بہار کے 50 روزہ سیزن کے دوران بیس کیمپ میں تقریباً 1600 خیموں کو چلانے کے لیے 824 کین مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی)، 18 ہزار 935 لیٹر مٹی کا تیل اور 5 ہزار 130 لیٹر پیٹرول استعمال کیا گیا۔یہ ایندھن کھانا پکانے، حرارت حاصل کرنے اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہو