مہنگائی میں اضافہ، چینی غائب،شہری نکونک
نئے مالی سال کے پہلے ماہ ہی مہنگائی میں نمایاں اضافہ،جون کے مقابلے جولائی میں شرح 2.9 فیصد بڑھ گئی،گلی محلے کی دکانوں پر چینی دستیاب نہیں ، 2 ڈیلرزمحمد اسد اور طلحہ محمود کو بیرون ملک جانے سے روکدیا گیا
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)مہنگائی بڑھنے لگی ، چینی غائب ہونیاورمہنگی ملنے پر شہری پریشانی سے دو چار ہیں ،۔ بیرون ملک جانے والے دو شوگر ڈیلرز کو روک دیا گیا ان کے نام ای سی ایل پر ہیں۔ دوسری طرف بازاروں میں چینی کی صورتحال دگرگوں ہے گلی محلے کی دکانوں سے چینی غائب ہوگئی جبکہ دکاندار سرکاری قیمت پر چینی بیچنے کو تیار نہیں۔تفصیل کے مطابق ملک میں چینی کی قیمتوں کا تنازع اور بحران برقرار ہے۔متعدد شوگر ڈیلرز اور ملز مالکان کے نام ای سی ایل پر ڈال کر چینی بحران کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ شوگر ڈیلرز ذرائع کے مطابق گزشتہ روز دو ڈیلرز محمد اسد اور طلحہ محمود کو باہر جانے سے روک دیا گیا۔دونوں کے نام ای سی ایل میں شامل ہیں۔ ان کو بتایا گیا وہ تحقیقات مکمل ہونے تک بیرونی سفر نہیں کر سکتے۔ڈیلرز کا شکوہ ہے وہ کاروباری لوگ ہیں یہ زیادتی کی جارہی ہے ان کے نام نکالے جائیں۔ دوسری طرف لاہور شہر سمیت ملک بھر میں چینی کا بحران جاری ہے ،عام دکانوں پر چینی دستیاب نہیں۔مارکیٹ ذرائع کا بتانا ہے شہر کے گلی محلوں کی دکانوں پر چینی دستیاب نہیں، مارکیٹ میں چینی 200 روپے کلو میں بک رہی ہے جب کہ چینی کی قلت کے باعث شکر کی قیمت میں 20 روپے کلو اضافہ ہوگیا۔ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے شہر کے چند بڑے دکاندار ضلعی انتظامیہ کے دبائو پر چینی 173 روپے کلو فروخت کررہے ہیں۔شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق دکانوں پر چینی ختم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے شکر کی قیمت 200 سے بڑھ کر 220 روپے کلو ہوگئی ہے۔ڈیلرز ایسوسی ایشن نے محکمہ خوراک پر الزام عائد کیا کہ مارکیٹ میں چینی کی سپلائی آٹے میں نمک کے برابر ہو رہی ہے۔ لاہور میں یومیہ 1500 ٹن چینی کی ضرورت ہوتی ہیگزشتہ دو سے تین روز میں صرف پچاس ٹن تک یومیہ چینی مارکیٹ میں آ رہی ہے۔علاوہ ازیں سیکرٹری پرائس کنٹرول ڈاکٹر احسان بھٹہ کی زیر صدارت چینی کی فراہمی بارے جائزہ اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا گزشتہ 2 روز میں عام مارکیٹ اور صنعتی استعمال کیلئے 1 لاکھ 97 ہزار 762 میٹرک ٹن چینی فراہم کی گئی۔کین کمشنر پنجاب نوید شہزاد مرزا نے مختلف اضلاع میں فراہم کردہ چینی سٹاک کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا 24 گھنٹوں میں لاہور ڈویڑن کیلئے 316، گوجرانولہ کیلئے 120 ، سرگودھا کیلئے 3 ہزار 162,راولپنڈی 388، ساہیوال 238 ، بہاولپور 2 ہزار 353 اور ڈی جی خان میں 6 ہزار 178 میٹرک ٹن چینی کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ فیصل آباد ڈویڑن میں 3 ہزار 14، ملتان میں 628 میٹرک ٹن چینی کی فراہمی یقینی بنائی جا چکی۔اجلاس میں ہدایت کی گئی ملز سے عام مارکیٹ تک چینی کی فراہمی میں درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے،مصنوعی مہنگائی اور ناجائز ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،افسر تمام اضلاع میں فراہم کردہ چینی کے سٹاک کی مکمل نگرانی یقینی بنائیں، تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک تھے۔نئے مالی سال 2025-26 کے پہلے ہی مہینے میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق جولائی میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 2.9 فیصد بڑھی، جس کے بعد سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 4.07 فیصد ہو گئی۔اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 3.23 فیصد رہی تھی، جب کہ جولائی 2024 میں یہی شرح 11.1 فیصد تھی۔ ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ دیہی علاقوں میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 2.15 فیصد اور شہری علاقوں میں 3.45 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2025 کے دوران دیہات میں سالانہ مہنگائی کی شرح 3.53 فیصد جبکہ شہروں میں 4.43 فیصد رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں مہنگائی کا دبائو زیادہ رہا۔واضح رہے کہ وزارتِ خزانہ نے جولائی کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان لگایا تھا، جس کے عین مطابق مہنگائی کی رفتار ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اجناس، توانائی اور کرائے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کی یہ سطح سامنے آئی ہے۔