حالیہ جنگ میں ایک ہزار اسرائیلی اہلکار ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، ایرانی فوج کا دعویٰ

حالیہ جنگ میں ایک ہزار اسرائیلی اہلکار ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، ایرانی فوج کا دعویٰ

ایرانی فوج کے سینیئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے حالیہ جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں اہم دعوے کیے ہیں۔

 انہوں نے کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فوج کے ایک ہزار اہلکار ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے۔شکارچی نے ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل اپنی فوجیوں کی ہلاکتوں کی اصل تعداد چھپاتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران بھی امریکی فوج کی ہلاکتوں کے بارے میں مکمل معلومات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ایرانی ترجمان نے امریکی فوج پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’ہالی ووڈ اور پروپیگنڈا فوج‘‘ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ امریکا مسلم ممالک کے وسائل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ نے ایران کے سامنے امریکی اور اسرائیلی فوج کی طاقت کے بارے میں واضح موقف پیش کیا ہے، اور یہ کہ دعوے عملی میدان میں مختلف نظر آئے ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل شکارچی نے امریکی اڈوں اور خطے میں موجود ممالک کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے، اور کہا کہ اگر امریکا اپنے فوجیوں اور مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتا تو دوسرے ممالک کی سکیورٹی کا بھی سوال پیدا ہوتا ہے۔تاہم، ایرانی فوج کی جانب سے اسرائیلی اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں سے متعلق دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہے۔ جنگ کے دوران دونوں طرف سے ہلاکتوں اور نقصانات کے حوالے سے مختلف دعوے کیے گئے ہیں، جنہیں ایرانی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنی فوجی مؤقف پر قائم ہے اور امریکا و اسرائیل کے خلاف سخت بیانیہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس صورتحال میں خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشات بدستور موجود ہیں۔