نیپال کے شہر تریشولی وادی میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران، ایک اسکول پر پرنسپل کے بروقت اور فوری فیصلے نے تقریباً 900 طلبہ کی جانیں بچائیں۔
خطرے کی اطلاع ملتے ہی، اسکول پرنسپل راجندر داوادی نے فوری طور پر اسکول بند کیا اور طلبہ و عملے کو محفوظ مقام کی جانب منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے کچھ ہی دیر بعد سیلابی پانی نے اسکول کی عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ایجنسی رپورٹس کے مطابق، پرنسپل راجندر داوادی اپنے کلاس روم میں موجود تھے جب انہیں ایک ساتھی استاد نے اطلاع دی کہ سیلابی ریلا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی دوران، ایک اور استاد کو بھی سیلاب کی وارننگ موصول ہوئی، اور کچھ ہی دیر بعد ایک طالب علم کی والدہ اپنی بچی کو اسکول سے لے جانے پہنچ گئیں۔اسکول پرنسپل نے فوری طور پر گھنٹی بجائی اور طلبہ و اساتذہ کو عمارت سے باہر نکالنے اور بلند مقام کی جانب ہدایت دی، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔جب طلبہ اور عملہ محفوظ مقام پر پہنچا، تو تب تک سیلابی پانی، کیچڑ، پتھروں اور ملبے کے ساتھ اسکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی۔
اس بروقت اقدام سے سیکڑوں طلبہ کی جانیں تو بچ گئیں، مگر اس واقعے میں اسکول کے دو عملے کے ارکان لاپتا ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قدرتی آفات کے دوران ابتدائی اطلاع کو سنجیدگی سے لینا اور فوری حفاظتی اقدامات کرنا کس قدر اہم ہے۔ اگر پرنسپل نے انتظار کیا ہوتا، تو طلبہ کے لیے صورتحال اور بھی خطرناک ہو سکتی تھی۔یاد رہے کہ نیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں گزشتہ ہفتے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں 900 سے زائد افراد جاں بحق اور 4,000 سے زائد لاپتا ہیں۔