واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد تہران کے خلاف مزید سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو سخت جواب دے گا اور ’’جوابی کارروائی ہوگی‘‘، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔یہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی ہے جب امریکا نے ایران کے آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ لارک پر حملہ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق، اس کارروائی میں ایران کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی فورسز نے جزیرہ لارک پر ’’محدود اور انتہائی درست‘‘ کارروائی کی۔ امریکی مؤقف کے مطابق، ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے راکٹ داغنے کی تیاری کررہے تھے، جسے امریکا نے جہاز رانی کے لیے ایک ’’فوری خطرہ‘‘ قرار دیا۔ایران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کا فوری جواب دیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق، ایران نے اردن میں موجود دو فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا جہاں امریکی فورسز موجود ہیں، اور دعویٰ کیا کہ حملوں میں امریکی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، امریکا نے ابھی تک ایرانی دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ اردن کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو روک لیا گیا ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ ان کا نشانہ کہاں تھا۔
ایران نے متحدہ عرب امارات میں واقع المنہاد ایئر بیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جہاں امریکی اہلکار موجود تھے، مگر اماراتی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ البتہ، اماراتی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایران سے آنے والے ایک ڈرون کو اپنی علاقائی سمندری حدود کے اوپر مار گرایا ہے، اور اس واقعے کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنی سلامتی کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے اردن میں امریکی اہداف کے خلاف کارروائی کو ’’جائز دفاع‘‘ قرار دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ حملے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کا جواب ہیں۔دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے ایران کے جوابی حملوں کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے، اور کہا ہے کہ امریکا ایران کو سخت جواب دے گا۔ ان دھمکیوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ تازہ کشیدگی چند ہفتوں کے نسبتاً سکون کے بعد سامنے آئی ہے، جب امریکا اور ایران کے درمیان خلیج میں دوبارہ حملوں کا تبادلہ ہوا۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس تنازع میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی اور تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے۔ کسی بھی بڑے فوجی تصادم یا بحری رکاوٹ سے عالمی تیل کی قیمتوں، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
خطے میں موجود امریکی اڈوں، خلیجی ممالک کی فضائی حدود اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے، اور اگر مزید کارروائیاں کی گئیں تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید پھیلنے کا امکان ہے۔