کراچی: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت گزشتہ ڈھائی سال کے دوران دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے، جبکہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے مالیاتی استحکام بنیادی ضرورت تھا، اب میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بناتے ہوئے بوم اینڈ بسٹ سائیکل کا خاتمہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 60 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں جبکہ بینکنگ انڈسٹری 340 ارب روپے کی منظوری دے چکی ہے۔ اب اصل مسئلہ قرضوں کے اجرا کا نہیں بلکہ سپلائی سائیڈ کو آگے بڑھانے کا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ عارف حبیب اور آباد ہاؤس کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے، جبکہ متعلقہ ریٹس اس عمل میں پل کا کردار ادا کریں گی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ 29 مارچ 2024 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج آئے تھے، اس وقت 100 انڈیکس 67 ہزار پوائنٹس پر تھا جو اب ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق 100 انڈیکس میں اضافے کے پس پشت موجود محرکات اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سال کے دوران سب سے زیادہ آئی پی اوز گزشتہ سال ہوئے، جن کی تعداد 11 رہی۔ سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھی جبکہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں جنریشن زی اور ملینیئلز کی شراکت 85 فیصد ریکارڈ ہوئی۔
وزیر خزانہ کے مطابق پہلی مرتبہ ڈسکوز کی نجکاری میں ترکیہ کے سرمایہ کاروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ایف ڈی آئی سے متعلق سوالات اٹھائے جاتے ہیں، تاہم ان معاملات میں وقت درکار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تین سال قبل معیشت سکڑ گئی تھی، حکومت کا کام نجی شعبے کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے جبکہ قیادت نجی شعبے نے کرنی ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بنانا اور بوم اینڈ بسٹ سائیکل کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ لیکوئیڈیٹی کے اجرا کے ذریعے عارضی ترقی کے بجائے پائیدار معاشی نمو پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ مندی میں جانے کے بعد معیشت کو بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ہدف میں کمی خبر بن جاتی ہے، لیکن ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو اب ’نئی معیشت 2.0‘ کی جانب بڑھنا ہوگا، جو صرف کرپٹو تک محدود نہیں بلکہ اس کے دیگر بھی کئی پہلو ہیں، اور پاکستان عالمی سروسز کے شعبے میں قیادت کرسکتا ہے۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ بانڈ مارکیٹ کو ریٹیل مارکیٹ تک وسعت دی جائے۔ کیپٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ کونسل اپنی سفارشات مرتب کر رہی ہے جو وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔