عمران خان کا ویڈیو لنک ٹرائل غیر قانونی ہے، اب پیش نہیں ہوں گے: علیمہ خان

عمران خان کا ویڈیو لنک ٹرائل غیر قانونی ہے، اب پیش نہیں ہوں گے: علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کی ویڈیو لنک ٹرائل کے نام پر دھوکے سے حاضری لگوائی گئی، اور اب عمران خان ویڈیو لنک یا عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

کچہری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا مؤقف ہے کہ انہیں ایک کمرے میں لے جا کر زبردستی ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا، تاہم تین بار پیشی کے باوجود کوئی آواز نہیں آئی کہ کارروائی میں کیا ہو رہا ہے۔ عمران خان کے بقول یہ غیر قانونی ٹرائل ہے، اس میں وکلا کو شامل کیے بغیر کارروائی ہو رہی ہے، لہٰذا وہ اب اپنے سیل سے باہر نہیں نکلیں گے۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ عمران خان کو ہر بار نئے غیر قانونی طریقوں سے ٹرائل کا سامنا کرایا جا رہا ہے، حالانکہ ہر ملزم کو فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ یا تو عدالت میں پیشی ہوگی یا پھر عدالت کو خود اڈیالہ جیل جانا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی جیل منتقلی کے بارے میں ان کے پاس کوئی اطلاع موجود نہیں۔

وکیل کا مؤقف
علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی موکلہ پر جعلی اور بوگس مقدمہ بنایا گیا ہے۔ عدالت نے آج چالان کی نقول فراہم کی ہیں اور اگلی سماعت پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ علیمہ خان پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتی ہیں، حالانکہ ان کی تمام گفتگو آئینی اور قانونی دائرے میں تھی۔ فیصل ملک نے مزید کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کا ٹرائل ان کے بنیادی آئینی حقوق کے خلاف ہے اور ہم نے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے، جس کی سماعت پیر کو ہوگی۔اس سے قبل علیمہ خان اپنی بہنوں نورین خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کے ہمراہ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئیں، جہاں انہیں چالان کی نقول دی گئیں۔ کیس کی سماعت 8 اکتوبر کو مقرر ہے، جس روز فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔