محمد تسنیم رضا
پاکستان اس وقت عالمی منظرنامے پر ایک نئے باب کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ میں پاکستان کی کامیابی نے نہ صرف قومی دفاع کو تقویت دی بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے مؤقف کو بھی مضبوط کر دیا۔ دہائیوں سے جاری کشیدگی میں یہ کامیابی پاکستان کو ایک نئی خود اعتمادی دے گئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ عالمی طاقتوں نے پاکستان کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں نئی راہیں کھل رہی ہیں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے، اور دیگر اسلامی ممالک بھی پاکستان کے قریب آ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی محاذ پر بھی کچھ بہتری محسوس کی جا رہی ہے، جس نے عوام کو وقتی ہی سہی مگر ایک اطمینان ضرور دیا ہے کہ ملک مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کامیابیاں دیرپا ہوں گی؟ تاریخ کے صفحات کھول کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بیرونی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیاں اْس وقت تک قائم نہیں رہتیں جب تک اندرونی سطح پر سیاسی ہم آہنگی اور استحکام پیدا نہ ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر آج سب کو غور کرنا ہوگا۔ اصل معرکہ یہ نہیں ہے کہ دنیا کو ہم نے کیا دکھایا ہے بلکہ یہ ہے کہ اپنے اندرونی اختلافات کو کس طرح سلجھاتے ہیں۔
یہاں سب سے پہلی نگاہ پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت تحریک انصاف پر جاتی ہے۔ یہ جماعت اس وقت قومی دھارے سے باہر کھڑی ہے۔ حکومت کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے اور ہر سطح پر انہیں چیلنج کرتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کو ختم کرنے کا سوچنا ایک غیر حقیقی اور خطرناک خیال ہے۔ برسوں کی محنت اور عوامی اعتماد نے اس جماعت کی جڑیں ہر صوبے میں پھیلا دی ہیں۔ دیہی علاقوں سے شہری مراکز تک اس کے ووٹر اور ہمدرد موجود ہیں۔ اگر اسے قومی عمل سے کاٹ دیا گیا تو پاکستان دوبارہ اسی دو جماعتی اجارہ داری میں جا گرے گا جس نے جمہوریت کو کمزور اور سیاست کو محض طاقت کے کھیل میں بدل دیا تھا۔
ماضی میں بھی جب ایک بڑی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، اس کے نتائج ریاست اور عوام دونوں کے لیے تباہ کن نکلے۔ 1970 کی دہائی میں مشرقی پاکستان کے سیاسی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کی قیمت پورا ملک ادا کر چکا ہے۔ اس کے بعد بھی بارہا یہ تجربہ دہرایا گیا مگر ہر بار نقصان پاکستان ہی کا ہوا۔ آج ایک بار پھر اگر تحریک انصاف کو الگ تھلگ کیا گیا تو تاریخ اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے۔ یہی وقت ہے کہ تحریک انصاف کو آئینی اور سیاسی راستوں سے قومی دھارے میں شامل کیا جائے تاکہ ملک کو اندرونی استحکام ملے اور بیرونی کامیابیاں بھی دیرپا ہو سکیں۔
یہاں مسلم لیگ (ن) کا کردار خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے۔ ن لیگ اس وقت اقتدار میں ہے مگر عوامی سطح پر اپنا بیانیہ بنانے اور مقبولیت قائم رکھنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ کبھی "ووٹ کو عزت دو"، کبھی ترقیاتی منصوبوں کا ذکر، کبھی عمران خان کی مخالفت — ان میں سے کوئی بھی بیانیہ عوام کے دلوں کو دیرپا اپنی گرفت میں نہ لے سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی اقتدار میں تو ہے لیکن عوامی تائید کے بغیر۔ اقتدار کی طاقت وقتی سہارا دے سکتی ہے، مگر عوامی مقبولیت کے بغیر سیاست زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہی خلا ہے جسے تحریک انصاف نے اپنے بیانیے اور مزاحمتی سیاست کے ذریعے پْر کر دیا۔
ن لیگ اگر اپنی سیاست کو نئی زندگی دینا چاہتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاست کا اصل میدان بیانیہ ہے، نہ کہ محض طاقت یا وقتی فیصلے۔ عوام کو صرف منصوبے یا سڑکیں یاد نہیں رہتیں بلکہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے انصاف اور احترام کو یاد رکھتے ہیں۔ یہی وہ موقع ہے جہاں نواز شریف کا کردار سب سے زیادہ اہمیت اختیار کرتا ہے۔
نواز شریف کی سیاست خود اس تلخ تجربے کی گواہ ہے کہ کس طرح ایک بڑی عوامی جماعت کو طاقت کے ذریعے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔ وہ جلاوطنی کا سامنا کر چکے ہیں، نااہلی کے داغ بھی ان کی سیاست کا حصہ ہیں اور مقدمات کی بھٹی سے بھی گزر چکے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کسی بڑی عوامی جماعت کو مٹا دینا نہ ممکن ہے اور نہ سودمند۔ اگر آج وہ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے سہولت کار بنیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ ان کی اپنی سیاست کے لیے بھی ایک انوکھا موڑ ہوگا۔ یہ کردار انہیں ایک مفاہمتی رہنما کے طور پر ابھار سکتا ہے جسے تاریخ عزت سے یاد کرے گی۔
یہاں نواز شریف کے پاس عملی راستے بھی موجود ہیں۔ وہ اپنی جماعت اور اتحادی حکومت کو قائل کر سکتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات پر سب جماعتوں کو ایک ساتھ بٹھایا جائے۔ سیاسی انتقام کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے انصاف اور احتساب کا ایسا نظام لایا جائے جس پر سب کو اعتماد ہو۔ قومی فورمز پر تحریک انصاف کو نمائندگی دی جائے تاکہ وہ ریاستی پالیسیوں میں شراکت دار بن سکے۔ میڈیا کو الزام تراشی اور کردار کشی کے دائرے سے نکال کر مکالمے کی طرف لایا جا سکتا ہے تاکہ اختلاف کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رہے۔ یہی اقدامات پاکستان کو سیاسی استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
پاکستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ بیرونی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیاں اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتیں جب تک اندرونی سطح پر سیاسی استحکام نہ آئے۔ تحریک انصاف کو قومی دھارے میں لانا اس استحکام کے لیے ناگزیر ہے، اور اس عمل میں نواز شریف کا کردار کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اگرچہ اپنا بیانیہ قائم رکھنے میں ناکام رہی ہے، مگر اس کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ ایک نئی سیاسی راہ متعین کرے۔ اگر نواز شریف بڑے پن کا مظاہرہ کریں اور تحریک انصاف کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں تو یہ نہ صرف ملک کے لیے خیر کا باعث ہوگا بلکہ ان کی اپنی سیاست کے لیے بھی ایک نیا آغاز ہوگا۔
پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے ایک جامع اور شفاف سیاسی نظام چاہیے، جہاں اختلاف رائے کے باوجود اتفاق رائے پیدا ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہماری بیرونی کامیابیوں کو دیرپا بنا سکتا ہے اور ملک کو ایک پْرامید مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ تاریخ ایسے ہی رہنماؤں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے ذاتی مفادات سے بلند ہو کر قوم کے اجتماعی مفاد کا سوچیں۔ آج اگر نواز شریف یہ کردار ادا کرتے ہیں تو یہ پاکستان کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔