تحریک انصاف کی سیاست

محمد تسنیم رضا
2014میں مقتدر حلقوں نے نواز شریف  کو اپنے دل سے اتار کر ایک نئی شخصیت کو دل کے سنگھاسن پر جگہ دی اور نواز شریف  کو یہ احساس دلانے کے لیے کہ اب وہ ان کے راج دلارے نہیں رہے، عمران خان کو لانچ کیا۔ عمران  خان جو تقریباً دو دہائیوں سے سیاست کے افق کا روشن ستارہ بننا چاہتے تھے، ان کے لیے دھرنوں کا اہتمام کیا گیا اور ان دھرنوں کی رونق بڑھانے کے لیے علامہ طاہرالقادری  کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔ اور پھر دن کے وقت ان سنسان دھرنوں کو رونق بخشنے کے لیے راتوں کو ایک میلے کا سماں پیدا کرکے قوم کو تفریح فراہم کی گئی۔ قوم کو یہ احساس دلایا گیا کہ اگر عمران خان  برسرِ اقتدار آ گئے تو ان کی تمام محرومیاں ختم ہو کر دن عید اور راتیں شب برات بن جائیں گی۔
مقتدر حلقوں کو جب تک مقصود تھا، علامہ علامہ طاہر القادری اور خان  کو استعمال کیا، لیکن حکومت کو گرانے کی بجائیصرف کمزور کیا اور پھر وقت آنے پر عدالتوں کو استعمال کرتے ہوئے "پانامہ کیس" میں نواز شریف  کو وزارتِ عظمیٰ اور سیاست سے نااہل قرار دلا کر دو ہزار اٹھارہ میں ہائبرڈ نظام کی بنیاد رکھ دی۔ سامنے تو عمران خان کا چہرہ تھا لیکن معاملات تمام انہی کے ہاتھوں میں تھے جن کے ہاتھوں میں تقریباً ہمیشہ ہوتے ہیں اور اس کا اعتراف تو عمران خان خود بھی کر چکے ہیں کہ میں بے بس وزیرِ اعظم تھا۔ وہ بے بس وزیرِ اعظم تھے لیکن وہ اتنے بھی بے بس نہیں تھے کہ پنجاب کو اور خیبر پختونخوا کو ایک اچھا اور اہل وزیرِ اعلیٰ ہی نہ دے سکتے۔ انہوں نے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے (جتنا اختیار انہیں حاصل تھا) پنجاب جیسے کروڑوں کی آبادی رکھنے والے صوبے کو عثمان بزدار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور خیبر پختونخوا کو محمود خان کے حوالے کر دیا، جو ہر طرح سے قائدانہ صلاحیتوں سے محروم شخص تھے۔
جب مقتدر حلقوں نے خان کی حکومت سے ہاتھ اٹھایا تو اس کی وجہ شاید عمران خان کے  کیے گئے ایسے فیصلے بھی ہوں گے۔ جب طاقت کے مراکز کی طرف سے اپوزیشن کو عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی شہ دی گئی تھی، تو عمران خان  کو خطرے کا اندازہ ہو جانا چاہیے تھااورانہیں بر وقت درست اور مناسب اقدامات اٹھا لینے چاہیے تھے، لیکن  عمران
خان نے تو اس کے الٹ کیا۔ انہوں نے اپنی حکومت کا خاتمہ کروایا، اراکینِ قومی اسمبلی سے استعفے دلوائے، پنجاب میں بڑی مشکل سے بنی پرویز الٰہی  کی حکومت کو ختم کروایا، وہ بے چارے روکتے ہی رہ گئے لیکن خان  نے نہ سننی تھی نہ سنی، خیبر پختونخوا کی حکومت کی قربانی دی اور ان طاقتوں کے خلاف سڑکوں پر آ گئے جن کے کندھوں پر سوار ہو کر وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے تھے۔عمران خان نے غلط اندازہ لگایا کہ جن قوتوں نے انہیں تخت پر بٹھانے کے لیے اپنا کندھا پیش کیا تھا اب وہ کندھا ان کے قد کاٹھ کے بوجھ تلے دب جائے گا، وہ یہ نہیں جان سکے کہ یہ کندھا ریاست کا ہے اور ریاست اپنا کندھا انہیں کبھی پیش نہیں کرتی جن کا وزن وہ اٹھا نہ سکے۔ عمران خان اس مغالطے کا شکار ہونے والے پہلے نہیں تھے، ان سے پہلے بھی اس غلط فہمی کا شکار ہونے والے اقتدار کے ایوانوں سے کئی بار نکالے جا چکے تھے۔
بہرحال خان  اپنی اور اپنے کارکنوں کی توانائی سڑکوں پر ضائع کرتے رہے، وہ خود کو اتنا طاقتور سمجھ بیٹھے کہ ریاست کو ہی للکار دیا اور اقتدار کے دوبارہ حصول کے لیے بجائے سنجیدہ سیاسی حکمت عملی کے، عمران خان  نے ساری سیاست کو ایک جذباتی تحریک میں بدل دیا۔ ایسی تحریک جس میں کارکنان کے جذبات کو اشتعال دلایا گیا، ریاستی اداروں پر تنقید کو حب الوطنی کا لبادہ اوڑھا دیا گیا، اور یوں ملکی سیاست میں نفرت، تقسیم اور عدم برداشت نے جڑیں پکڑ لیں۔عمران 
خان  کی سیاست کا المیہ یہی رہا کہ انہوں نے اپنی ذات کو ریاست سے بڑا بنا لیا۔ نتیجے میں  ۹ مئی کا واقعہ ہوا، جو تحریک انصاف کی سیاست کا نکت? زوال بن گیا۔ نو مء￿ ی کا سانحہ نہ صرف سیاسی لحاظ سے ایک بڑی غلطی تھی بلکہ یہ  نظریاتی طور پر بھی پی ٹی آئی کی شناخت کو مشکوک بنا گیا۔ اپنی گرفتاری کو ریاستی بحران اور اپنے حامیوں کی گرفتاری کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیا۔ جو جماعت خود کو قانون، آئین اور آئینی اداروں کی محافظ کہتی تھی، وہی جماعت اپنے کارکنوں کو اْن ہی اداروں کے خلاف اکسانے لگی۔ اور اب، جب عدالتی، سیاسی اور سماجی فضا        ان  کے حق میں نہیں رہی، تو وہی نظام، وہی عدالتیں اور وہی آئین یاد آنے لگے ہیں۔
لیکن جب وہ خود اقتدار میں تھے تو اپوزیشن کے ساتھ کسی قسم کی نرمی یا برداشت کا مظاہرہ نہ کرتے تھے۔ عمران خان کے بے لچک رویے کی سزا ان کے کارکنوں کو بھگتنا پڑی، انہیں قید و بند کا سامنا کرنا پڑا، وہ کروڑوں ووٹر الگ سے دل شکستہ ہوئے جو خان  کو ملک کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے تھیجب الیکشن ہوئے تو  اس وقت عمران خان شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے تھے ،، ان کے ووٹرز سانحہ نو مئی کے باوجود گھروں سے نکلے اور بیلٹ بکسز کو عمران خان کے حق میں بھر دیا، لیکن جب روشن سکرینوں پر نتائج ان کے خلاف ہوتے ہوئے نظر آئے جن کے سر پر اب ہْما بیٹھنا تھا، تو عالمِ غیب سے کچھ پراسرار ہاتھ نمودار ہوئے اور روشن سکرینوں پرعمران خان  کے مقدر کو بدل دیا گیا، لیکن خان  کو اس کا شکوہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دوہزار اٹھارہ میں کسی اور کا مقدر بھی اسی طرح بدلا گیا تھا۔
اسں وقت عمران خان  کو اقتدار میں لانے کے لیے ایک ایسی دیومالائی شخصیت کا بت تراشا گیا تھا، جو پلک جھپکتے میں مملکتِ خداداد میں ایسی تبدیلی لائے گی جس سے دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی، جو کرپٹ لوگوں کو ہمیشہ کے لیے زندانوں میں ڈال دے گی، جو میرٹ پر ان لوگوں کو آگے لائے گی جو ملک کے روشن مستقبل کے ضامن ہوں گے، لیکن نہ تو تبدیلی آئی، نہ احتساب کا معیار سب کے لیے یکساں رہا اور نہ ہی میرٹ کو کوئی حیثیت ملی۔ البتہ رانا ثناء￿  اللہ پر ناجائز منشیات ڈال کر اپنے ہی طرزِ سیاست پر سوالیہ نشان ڈال دیا، اور جس تیزی سے پرانے سیاسی نظام کے خلاف آواز اٹھائی تھی، اسی تیزی سے انہی روایات کو اپنی حکومت میں دہرا دیا۔
عمران خان کے اقتدار کا زمانہ خود کو ایک حقیقی بڑا لیڈر بنانے اور منوانے کا ایک سنہری موقع تھا، لیکن اس موقع کو ذاتی انا، غیر منتخب مشیروں اور انتقامی بیانیے کی نذر کر دیا گیا۔ خود کو ایک بڑا رہنما ثابت کرنے کی بجائے بے لچک رویے والا ایک سیاستدان بنا دیا، وہ ایک نیا پاکستان بنانا چاہتے تھیملک میں مکمل جمہوریت کا نفاذ چاہتے تھیلیکن انہوں نے اپنی جماعت میں جمہوری روایات کو فروغ نہیں دیا 
 حالانکہ انہیں سب سے پہلے اپنی جماعت کے اندر جمہوری روایات کو فروغ دینا چاہیے تھا، کیونکہ نئے پاکستان نے وہیں سے جنم لینا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں بھی درباری کلچر ہی پنپا، جو دوسری سیاسی جماعتوں کا حصہ تھا۔موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اب تحریک انصاف تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، عمران خان جیل میں ہیں اور ان کے کارکن اور ووٹرز ان کی رہائی کے منتظر، لیکن خان  اب بھی سیاست دانوں کو چھوڑ کر صرف ان طاقتور حلقوں سے بات کرنا چاہتے ہیں جن سے دو ہزار اٹھارہ میں بات کی تھی۔ خان  کو شاید یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ انہی طاقتوروں کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھنا پڑتا ہے، محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید ہونا پڑتا ہے، نواز شریف صاحب کو جلاوطنی کاٹنا پڑتی ہے اور عمران خان  کو خود اس وقت جن مصائب کا سامنا ہے ان پر تو بات ہی کیا کرنی "پر جلتے ہیں"۔
عمران خان  اپنے بے لچک رویے کی وجہ سے یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی اور دوسرے اسیران کی رہاء￿ ی میں بھی خوامخواہ رکاوٹ بن کر ان کو تھکا رہے ہیں۔ خان  کو اپنے لیے نہیں تو ان کے لیے اپنے رویے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے، اپنی انا کو بلند رکھنے کے لیے نہ خود کو جلائیں نہ اسیران کو اور نہ ملک کو۔ بے نتیجہ محاذ آرائی نہ عمران خان کے لیے اچھی نہ ملک کے لیے۔ علی امین گنڈا پور کتنی کوششیں کر چکے لیکن سوائے پارٹی کی ساکھ متاثر ہونے کیکیا نتیجہ برآمد ہوا، الٹا علی امین گنڈا پور ہی متنازع ہو گئے اور اپنی ہی پارٹی کے لوگ ان پر سوال اٹھانے لگے کہ یہ کسی کی طرف ہیں، عمران خان  کی طرف یا؟
، اب کبھی پانچ اگست کی تاریخ دی جاتی ہے اور کبھی نوے دن کا الٹی میٹم۔ یہ سڑکوں پر آنا، پھر چلے جانا، پھر ایک نیا چیلنج دینا اور اس کے بعد پھر ایک نیا—اس سب کو تو پہلے آزمایا جا چکا ہے، یہ ہمیشہ بے نتیجہ رہتا ہے۔ جلسے، جلوس، لانگ مارچ، دھرنے—جن قوتوں کی وجہ سے کامیاب ہوتے ہیں، اب وہ آپ کے ساتھ نہیں۔ آپ نے اپنے بے لچک رویے کی وجہ سے ان کا ساتھ کھو دیا ہے اور اب مخالفت بھی اس حد تک شدت اختیار کر چکی ہے کہ نام لے لے کر علیمہ خان  بات کرتی ہیں۔ پارٹی کی طرف سے روزانہ اداروں پر تنقید کی جاتی ہے، سوشل میڈیا پربرا بھلا کہا جاتا ہے، تقسیم پیدا کی جاتی ہے۔
عمران خان  کو سوچنا چاہیے کہ اس طرزِ عمل سے پہلے کچھ حاصل ہوا ہے جو اب ہوگا؟
آپ پاکستان کے ایک بڑے رہنما ہیں، آپ کروڑوں لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں، آج نہیں تو کل ہو سکتا ہے آپ دوبارہ اقتدار میں آ جائیں۔ آپ بھی ہمارے ہیرو ہیں اور ادارے بھی۔ انہوں نے بھی ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور دے بھی رہے ہیں۔ آپ کی خدمات بھی قابلِ تحسین ہیں، وہ بھی ہر روز وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں۔اگر غلطیاں ہیں تو وہ بھی دونوں طرف سے ہیں اور خوبیاں ہیں تو وہ بھی دونوں طرف  موجود ہیں۔
عمران خان  کو چاہیے کہ تاریخ میں نمایاں مقام پانے کے لیے انا کے خول سے باہر نکلیں۔ ان کے پاس اب بھی ایک بڑی سیاسی طاقت موجود ہے، لاکھوں ووٹرز، جذباتی کارکنان، اور عوامی مقبولیت کا وہ گراف جس کا کوئی دوسرا سیاسی رہنما فی الوقت مقابلہ نہیں کر سکتا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس سیاسی طاقت کو سنجیدہ قومی سیاست میں تبدیل کر سکتے ہیں؟ یا وہ ہمیشہ ایک احتجاجی، جذباتی اور غیر مستقل بیانیے کے قیدی بنے رہیں گے؟
اگر عمران خان  واقعی چاہتے ہیں کہ ان کی تحریک ایک مستقل سیاسی قوت کے طور پر زندہ رہے تو انہیں اب بیانیے کو نیا رخ دینا ہوگا۔ اب نعرے نہیں، دلیل چاہیے۔ اب سڑکیں نہیں، پارلیمان چاہیے۔ اب الزامات نہیں، اصلاحات چاہیے۔ اگر وہ یہ سمجھ لیں کہ اب ان کی لڑائی کرسی کی نہیں، اصولوں کی ہونی چاہیے—اور وہ اصول صرف آئین، پارلیمان اور عوامی رائے کی بالادستی سے جْڑے ہوں—تو شاید ان کے لیے تاریخ ایک اور موقع لکھ دے۔