پاکستانی کرکٹر عمر اکمل نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سابق کپتان اور ہیڈ کوچ وقار یونس پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وقار یونس نوجوان کھلاڑیوں سے حسد کرتے تھے کیونکہ وہ نئی گاڑیاں خریدنے کے قابل ہوگئے تھے، اور یہی حسد ان کے کیریئر کو تباہ کرنے کا سبب بنا۔عمر اکمل کا کہنا تھا کہ اللہ نے جو دیا ہے، وہ اپنے اور اپنے خاندان کی خواہشات کو پورا کر رہے ہیں، اور اس میں برائی کی کوئی بات نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے علاوہ دیگر کرکٹرز، جن میں رانا نویدالحسن بھی شامل ہیں، اس بات کی گواہی دیں گے کہ انہیں کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ نئی گاڑیاں اور برانڈیڈ کپڑوں کے پہننے کے سبب ٹیم سے نکالا گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ وقار یونس کہتے تھے کہ انہیں اتنے پیسے کیسے مل گئے، حالانکہ اس وقت کھلاڑی ایسی چیزیں خریدنے کے قابل نہیں تھے۔ عمر اکمل نے کہا کہ جب اللہ نے دیا ہے تو اپنے اوپر خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
مزید برآں، عمر اکمل نے یہ بھی بتایا کہ وہ وقار یونس کا بطور سینیئر کھلاڑی احترام کرتے ہیں، مگر بطور کوچ ان سے ناخوش ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2016 کے ورلڈ کپ کے دوران، انہوں نے پی سی بی کو خطوط اور فائلیں جمع کروائیں اور تجویز دی کہ اگر وقار یونس کو ہٹا دیا جائے تو ٹیم کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔عمر اکمل نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے غیر ملکی لیگوں کے کئی مواقع مسترد کیے تاکہ پاکستان کے لیے کھیل سکیں، کیونکہ ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ پاکستان ہی رہا ہے۔ انہوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے لیے کھیلنے کے لیے اپنی ساری توانائی اور محبت رکھتے ہیں۔