پاک افغان مسئلہ بات چیت سے حل کیا جائے حکومت بیرونی دباؤ کے تحت غلط اقدامات کر رہی ہے ، مولانا فضل الرحمان

آرمی چیف کی توسیع انتظامی معاملہ ہے، بات نہیں کروں گا،   امریکہ سے تعلقات کے لئے چین کی دوستی کی قربانی نہیں دینی چاہیے
 امام مساجد کیلئے 25ہزار روپے مشاہرہ مسترد کرتے ہیں،جماعتوں پر پابندیاں لگانے کے بجائے مذاکرات کئے جائیں:پریس کانفرنس
چنیوٹ(آئی این پی)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے   حکومت کسی بیرونی دباؤ کے تحت غلط اقدامات کر رہی ہے ، پاک افغان کشیدگی کوبات چیت کے ذریعے حل کیا جائے،کے پی کے میں عام آدمی اس وقت گھر سے باہر نہیں نکل سکتا،آرمی چیف کی توسیع انتظامی معاملہ ہے، بات نہیں کروں گا،   امریکہ سے تعلقات کے لئے چین کی دوستی کی قربانی نہیں دینی چاہئے ،ایسے اقدامات سے ہم خطے میں تنہا ہو رہے ہیں ، طاقت استعمال کرنی ہے تو افغانستان میں جا کر کریں، امام مساجد کے لئے پچیس ہزار روپے مشاہرہ مسترد کرتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے  چنیوٹ میں پریس کانفرنس  سے ،خطاب کرتے ہوئے کیا ۔  انہوں نے کہا کہ جماعتوں پر پابندیاں لگانے کی بجائے مذاکرات کئے جائیں ملک میں کچھ نہیں ہو رہا لیکن کارکن تیاری کریں افغانستان اور ہم دو برادر اسلامی ملک ہیں سرحد کے آر پار ایک ہی قوم بستی ہے سی پیک کے حوالے سے ہم چین کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں امریکہ اور مغرب کے دباؤ پر سی پیک روک دیا گیا ہماری شکایت عمران خان سے تھی، وہی کام انہوں نے کیا۔ جنرل مشرف کے دور میں افغانستان کا مسئلہ بگڑاہم ان کی لڑائیوں میں فریق بنے ہم نے امریکیوں کو اڈے دیئے، انہوں نے افغانوں پر بمباری کی افغان عوام پرو انڈیا نہیں بلکہ پرو پاکستان ہیں طاقت کے ذریعے مسئلہ حل ہونے نہیں سوچنا چاہئے ہمیں افغانستان کی آزادی و خودمختاری پر بھی سمجھوتا نہیں کرنا چاہئے