مزدور حقوق، سماجی تحفظ اور موسمیاتی انصاف: آج کی اہم ضرورت

مزدور حقوق، سماجی تحفظ اور موسمیاتی انصاف: آج کی اہم ضرورت

عالمی یوم مزدور کے موقع پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے زیرِ اہتمام موسمیاتی تبدیلی اور مزدوروں کے حقوق کے موضوع پر سیمینار میں مقررین نے مزدور طبقے پر موسمیاتی اثرات کے سنگین اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔  
کراچی پریس کلب میں منعقدہ اس سیمینار میں کہا گیا کہ بڑھتی ہوئی گرمی، غیر متوقع بارشیں، سیلاب اور خشک سالی سے زراعت، ماہی گیری، تعمیرات اور دیگر شعبوں سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کے روزگار کو خطرات لاحق ہیں، جس سے غربت اور عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔  اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ مزدوروں کے روزگار کے تحفظ کے لیے منصفانہ پالیسی اور سوشل سیکیورٹی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔  ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یونین سازی کو مضبوط کرنا ضروری ہے، کیونکہ موجودہ قوانین ان کا حق محدود کر چکے ہیں۔  پائلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عباس حیدر نے بتایا کہ پائلر مزدور تنظیموں کو متحد کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، اور اگلے سال یوم مئی کا پروگرام مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔  انہوں نے شہر میں جاری بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش سے مزدور طبقے کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا، خاص طور پر خواتین محنت کشوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔  
انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین قاضی خضر نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مزدوروں کے بچوں کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ آئین سب کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے مگر حقیقت میں بہت سے بچے اسکول سے باہر ہیں۔  نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنما ناصر منصور نے موسمیاتی تبدیلی کے سبب پیدا ہونے والی تباہ کاریوں کا ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک اور بڑی کمپنیوں کو ٹھہرایا اور معاوضہ کے لیے جرمن عدالت میں کیس کی مثال دی۔  اس سیمینار میں مہناز رحمان اور سعید بلوچ نے بھی خطاب کیا۔