شرح سود کو بڑھانے کی تھیوری ناکام دکھائی دے رہی ہے،گوہر اعجاز

زیادہ شرح سود حکومتی قرضوں کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے:سابق نگراں وفاقی وزیر
کراچی(آئی این پی )سابق نگراں وفاقی وزیر اور چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ  وزیر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ  پاکستان میں شرح سود کو بڑھانے کی تھیوری ناکام دکھائی دے رہی ہے، اسٹیٹ بینک شرح سود بڑھا کر سپلائی سائیڈ مہنگائی کو قابو نہیں کر سکتا، شرح سود کو بڑھانا لاگت پر مبنی مہنگائی کے لئے  موزوں حل نہیں۔اپنے ایک بیان میں    ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان نے شرح سود بڑھا دی، امریکہ نے برقرار رکھی   لیکن کیا یہ درست حکمت عملی ہے؟ موجودہ عالمی تیل کی صورتحال میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں مختلف معیشتوں میں مہنگائی کو بڑھا رہی ہیں پاکستان نے اس کے جواب میں شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد سے 11.5 فیصد کر دیا ہے، جبکہ امریکہ نے اپنی شرح سود تقریبا 3.5 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔  گوہر اعجاز نے کہا کہ امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو، کی جانب سے شرح سود کو برقرار رکھنا اس معاشی نظریے کے مطابق ہے کہ سپلائی سائیڈ مہنگائی جو بنیادی طور پر ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کو صرف شرح سود میں اضافے سے موثر طریقے سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔  سابق وزیر نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ طلب پر مبنی مہنگائی (  کو کنٹرول کرنے میں مثر ہوتا ہے، جہاں زیادہ طلب قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے، لیکن یہ لاگت پر مبنی  مہنگائی کیلئے  موزوں حل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال جو جنگ اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پیدا ہوئی ہے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی اختیار کرنا بھاری قیمت کا سبب بن سکتا ہے، زیادہ شرح سود حکومتی قرضوں کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں قرضوں کی ادائیگی پر اضافی بوجھ کے ذریعے ٹیکس دہندگان پر تقریبا 600 ارب روپے کا مزید بوجھ پڑ سکتا ہے