ڈاکٹر جمشید نظر
شکاگواپنی بلند ترین عمارات کے باعث دنیا بھر میںجانا جاتا ہے۔یہ آبادی کے لحاظ سے امریکہ کا تیسرا بڑا شہر ہے جسے سن 1833میں عظیم جھیلوں کودنیا کے تیسرے بڑے دریا ’’دریائے مسیسپی‘‘کے نظام کے ساتھ منسلک کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا کے خوبصورت ترین شہرشکاگو کی سڑکوں اور بلندو بالا عمارتوں کے نیچے چار ہزار سے زائد ان مزدوروں کا خون بہہ چکا ہے جنھوں نے اپنے حق کی آواز بلند کی تھی۔ انیس ویں صدی میں جب شکاگو صنعتی شہر بن رہا تھا یہاں مختلف ممالک سے ہزاروں بے روزگارافراد محنت مزدوری کے لئے آئے ۔ان مزدوروں سے دن میں 10سے اٹھارہ گھنٹے کام کروایا جاتا اور بدلے میں بہت معمولی دیہاڑی دی جاتی تھی۔ سرمایہ داروں اور فیکٹری مالکان کا اتنا رعب اور دبدبہ تھا کہ مزدوروں کے ساتھ کی جانے والی زیادتی پر حکومتی اداروں کوکارروائی کرنے کی جرات نہ تھی ، انہی دنوں چند اخبارات بھی شائع ہوتے تھے لیکن وہ بھی سرمایہ داروں کے خلاف لکھنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔ سرمایہ دار اتنے چالاک تھے کہ انھوں نے مزدوروں کے درمیان اپنے جاسوس چھوڑ رکھے تھے تاکہ انھیں اطلاع ملتی رہی کہ مزدورکسی احتجاج کا ارادہ تو نہیں کررہے اس مقصد کے لئے سرمایہ داروں نے جرائم پیشہ افراد بھی پال رکھے تھے جب کوئی مزدور احتجاج کرنے کا سوچتا تو غنڈے بھیج کر اس پر تشدد کروایا جاتا اس کام کے لئے بعض دفعہ پولیس کو بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ جب کوئی مزدور کسی احتجاج کا حصہ بننے لگتا تو اس کونوکری سے نکال دیا جاتا تھا۔
بدترین حالات کے باوجودآخرکار مزدور ایک یونین بنانے میں کامیاب ہوہی گئے جس کا نام تھا (Knights of labour) یعنی مزدوروں کے سپاہی۔ابتداء میں اس یونین کے اراکین کی تعداد 28ہزار تھی جو بعد میں آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی۔Knights of labourیونین کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ مزدوروں کے کام کے اوقات دس کی بجائے آٹھ گھنٹے کئے جائیں ۔بعد میں مزدوروں کی قائم ہونے والی دیگر ٹریڈ یونینز بھی ’’Knights of labour‘‘یونین میں شامل ہوگئیں اورپھر ایک فیڈریشن بنائی گئی جس کا نام تھا’’ Fedration of organized trade labour unions‘‘ ۔ فیڈریشن نے بھی مزدوروں کے کام کے اوقات آٹھ گھنٹے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یکم مئی سن1886میں امریکہ بھر میں پانچ لاکھ مزدوروں کے ہمراہ مکمل ہڑتال کرتے ہوئے پرُامن مظاہرے کئے جسے دیکھ کر سرمایہ داروں کو خدشات پیدا ہوگئے کہ اب مزدور ان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں ۔انھوں نے مزدوروں کو ڈرانے دھمکانے اور احتجاجی مظاہروں سے باز رکھنے کے لئے 3مئی کو ایک ہونے والے پرامن مظاہرے میںپولیس کے ذریعے فائرنگ کروادی جس کے نتیجہ میں چھ مزدور ہلاک ہوگئے۔اس واقعہ کے بعد مزدور وں نے راتوں رات پچیس ہزار اشتہار چھپواکرشہر بھر میں بانٹتے ہوئے تمام مزدوروں کو اگلے روز شام ساڑھے سات بجے (Haymarket Square) یعنی بھوسے والی مارکیٹ کے پاس احتجاج کی کال دے دی۔اس کال پر اگلے روز تین ہزارمزدور بھوسے والی مارکیٹ میں جمع ہوگئے اور بارش کے دوران سفید جھنڈے پکڑ کر پرامن احتجاج کرنے لگے اسی دوران پولیس کی بھاری نفری نے وہاں پر دھاوا بول دیاکسی مزدور نے ایک بم پولیس کی طرف پھینکا جس کے بعد پولیس نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، سینکڑوں مزدور پولیس کی گولیوں کی زد میں آگئے ایک محتاط اندازے کے مطابق چار ہزار سے زائد مزدور پولیس کی گولیوں سے ہلاک ہوگئے اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ۔بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ مظاہرے میں شریک مزدوروں پرپولیس نے اس قدر گولیاں برسائیں کہ آج تک مرنے والے مزدوروں کی تعداد کا تعین نہیں ہوسکا۔ مظاہرے کے دوران مزدوروں کے ہاتھوں میں سفید جھنڈے تھے جس کا مطلب تھا کہ وہ پرامن مظاہرہ کررہے ہیں لیکن جب پولیس نے مزدوروں پر گولیاں چلا ئیں تومزدوروںکے خون سے تر ہوکر سفید جھنڈے سرخ ہوگئے،سڑکوں پر کھڑے بارش کے پانی کا رنگ بھی خون سے سرخ ہوگیا ،ہر طرف مزدروں کی لاشیں پڑی تھیں اورسڑکوں پران کا خون بہہ رہا تھا۔مزدروں کے سفید جھنڈے ان کے خون سے تر ہونے کی یاد میں آج بھی مزدور سرخ رنگ کے جھنڈے اٹھاتے ہیں۔جب رات ہوئی تواس واقعہ میں زندہ بچ جانے والے مزدوروں نے اپنے ساتھی مزدوروںکے خون میں شرابورکپڑے شکاگو کے گلی محلوں اور چوراہوں پر لٹکا دیئے۔صبح جب شکاگو کے رہائشی گھروں سے باہر نکلے تو ہر طرف خون آلودہ کپڑے لٹکے دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے۔ پولیس نے مزدوروں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی اورپھر آٹھ مزدور یونین لیڈروں پرجھوٹا مقدمہ چلا کر انھیںموت کی سزا سنا دی گئی جس میں سے ایک مزدور نے خود کشی کرلی جبکہ باقی سات مزدوروں کو دردناک انداز میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔
اس تاریخی واقعہ نے دنیا بھر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا جس کانتیجہ یہ نکلا کہ مزدوروں کے کام کے اوقات دنیا بھر میںآٹھ گھنٹے کردیئے گئے۔اگر شکاگو کے مزدور قربانیاں نہ دیتے تو شائد آج بھی فیکٹری مالکان اور سرمایہ کار مزدوروں سے سولہ سولہ گھنٹے کام لے رہے ہوتے اسی لئے مزدوروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہرسال یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔شکاگو میںHeymarket Squareمیں جس جگہ مزدور لیڈروں نے مال بردار گاڑی کے اوپر تقریریں کیں تھیں اسی مقام پر ان کی یادگار کے طور پر مال بردار گاڑی اور اس پر سوار مزدور لیڈروں کے سرغ رنگ مجسمے آج بھی موجود ہیں ۔