عظمت و شان ماہ رمضان

ڈاکٹرخادم حسین خورشید الازھری

پروردگار عالم صحیفہ انقلاب قران مجید، فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھداللناس وبینات من الہدی و الفرقان  فمن شھدمن کم الشھر فلیصمہ۔۔۔ماہ رمضان المبارک جس میں اتارا گیا قران اس حال میں کہ یہ راہ حق دکھاتا ہے لوگوں کو اور اس میں روشن دلیلیں ہیں ہدایت کی اور حق کو باطل میں تمیز کرنے کی سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو وہ یہ مہینہ روزے رکھے۔۔یہ ایت کریمہ رمضان المبارک کا مقدس تعارف کراتی ہے اور اس کی اہمیت کو واضح فرماتی ہے، پہلی بات یہ کہ قران مجید کا نزول اسی مقدس مہینہ میں ہوا،اسی لیے اس ماہ مبارک کو قران مجید سے ایک خاص نسبت ہے، اج بھی کتاب ہدایت قران مجید  انہی انوار برکات کے ذریعے  طالبان راہ ہدایت کونور ربانی بانٹنے میں مصروف ھے، اس ماہ مبارک کے شب و روز متلاشیان راہ حق کو انعامات خداوندی تک منتقل کرنے کا مقدس ذریعہ بن رھے ھیں، اکابرین اسلام، محسنین امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ ماہ مبارک تلاوت کلام پاک کی کثرت اس کے معنی و معارف سے اپنے قلب و ذہن کو منور کرنے کا ایک بہترین سبب ہے ،اہم بات یہ کہ رمضان المبارک کو نزول ہدایت سے خاص نسبت ہے اس کی ہر گھڑی، ہر لمحہ تجلیات ربانی کے نزول کا اس کے بندگان خاص کے لیے ہے ،رسول مختار شفیع روز شمار محبوب پروردگار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد مقدس ہے کہ اللہ رب العزت کی طرف سیاسکے بندوں کے لیے خاص گھڑیاں ہوتی ہیں قبولیت اور ہدایت کے فیصلوں کی  تم لوگ ان ساعتوں کو تلاش کر کے ان سے فائدہ اٹھایا کرو، ایسے ہی حدیث قدسی ہے کہ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ اس مہینہ میں ہر رات یہ ندائے عام فرماتا ہے کہ ہے کوئی جو اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور میں اس کو معاف فرماؤں ،ہے کوئی جو دامن طلب پھیلائے اور ہدایت کی تمنا لیے ملتجی ہو اور میں اسے ہدایت کا نور عطا کروں، اور اسی طرح رمضان المبارک صبر، ایثار ،مجاہدہ اور تربیت کا مقدس مہینہ ہے انسان کی پوری شخصیت کو اس ماہ میں اوورہال کر دیا جاتا ہے 11 ماہ میں شخصی کمزوریوں بشری خامیوں سمیت جملہ عادات رذیلہ کا میل کچیل اس ماہ مبارک میں صاف کر دیا جاتا ہے انسانی شخصیت کیونکہ اس وقت تک نکھرتی نہیں جب تک کہ اسے مجاہدہ کی بھٹی سے نہ گزارا جائے اس لیے رمضان المبارک میں یہ کام قدرت خداوندی اپنی خاص حکمتوں سیفرماتاھے ،جیساکہ آپ جانتے ھیں کہ انسان کی عیش پسندی عام طور پر تین راستوں سے ہوتی ہے (1) کہ وہ بہترین خوراک کھائے اور وقت و بے وقت کثرت سے کھاتا پیتا رہے(2)وہ چاہتا ہے کہ ارام سے بستر پر لیٹا رہے اور زیادہ سے زیادہ نیند اور سکون میں وقت گزارے (3) کہ وہ آزادی سیجنسی لذت کے راستہ سے عیش پسندی کی راہ اختیار کرے لیکن غور فرمائیے کہ روزہ ان تینوں راستوں کو بند کرنے کا خوبصورت ذریعہ ھیسارا دن کھانا پینا بند ہوجاتا ھے،جب حلال رزق اور اللہ  رب العزت کی پاکیزہ نعمتوں کو بندہ دن بھر کے لیے چھوڑ دیتا ہے تو یقیناً یہ عظمتوں کیحامل ایام رزق حرام چھوڑنے کا بہترین ذریعہ اور سبب بن سکتیھیں ، غفلت ،نیند، ارام کا علاج اس انداز سے قدرت نے فرمایا کہ عین اس وقت جاگنے پر انسان مجبور ہو جاتا ہے جو میٹھی نیند کا خاص لمحہ ھے،وقت سحرغفلت میں پرسکون  سونے کا ٹائم، اس وقت انسان اپنے رب کے لیے اٹھتا ہے اور اٹھ کر اس کے حضور تمام خواہشات تمناؤں کو ایک طرف رکھتے ہوئے پورے دن کے لیے اپنے پروردگار کے حضور عہد و پیمان کر کے اس کے پیارے محبوب،رحمت دو جہاں،محسن انسانیت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کی بدولت اپنے اپ کو کھانے پینے کے حوالے سے پابندی کی زنجیروں میں جکڑ لیتا ہے، باغی نفس کو بھوکا پیاسا رکھ کے اطاعت خداوندی پر مجبور کر دیتا ہے یہ تمام کام جنگلوں پہاڑوں کی کھو میں لے جا کر نہیں کرتا بلکہ بھری دنیااوربزم یاراں میں وہ اپنے اپ کو اس مالک و خالق سے یوں جوڑتا ہے کہ تمام نعمتیں سامنے ہونے کے باوجود ان سے منہ پھیر کے پیدا کرنے والے پروردگار سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔اسی طرح رمضان المبارک ایثار اور خدمت کا مقدس مہینہ ہے۔اس ماہ مبارک میں مخلوق خدا کے ساتھ اور زیادہ مربوط ہونے کی تعلیم دی گئی ھے، غرباء￿  کی ہمدردی، مساکین کا احساس اور ہمسایہ کی خدمت اس ماہ مبارک میں اور بھی زیادہ مومنین کے ہاں نمایاں ہوتی ہے روزہ کا عمل ایک اہم سبق یہ بھی دیتا ہے کہ اس مہینہ میں امیر سے امیر انسان کو بھی اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے کہ عام طور پر غریب سے غریب انسان گزرتا ہے بھوک پیاس بے ارامی اور اعتکاف کی حالت میں تنہائی اور زبان بندی ،غرض کہ غریب اور مجبور انسان کے ہر دکھ کا مزہ بیٹھے بیٹھے اسے چکھا دیا جاتا ہے رات کو بھوکا سو جانے والے کی تکلیف کا احساس ہو جاتا ہے ہمدردی کا جذبہ مزید بیدار ہوجاتا ہے اس لیے کہتے ھیں کہ رمضان المبارک ایثارکا مہینہ ہے جس میں دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر مقدم کرنا سکھایا جاتا ہے۔ رمضان المبارک وصال کا مہینہ بھی ہے یہ بات صرف وہ لوگ جانتے ہیں جنہیں اللہ رب العزت کے حضور عجز و انکسار کے ساتھ جبین نیاز جھکاکرشرمندگی وندامت کے انسوؤں کی برسات لیے جھولی پھیلائے اس کے کرم کا سوالی بننے کی سعادت نصیب ہوتی ہے ان کیلئے اس کی راتیں بڑی ہی بابرکت اس کے دن بڑے ہی مقدس ھوتیھیں، اس ماہ مبارک میں عبادات کا لطف بہت ہی نرالا اس کے سحر و افطار کیے بابرکت لمحے عظمتوں کے حامل خدا کے حضور جھکنے والے عابد کو اپنے خالق کے حضور، جھولی پھیلانے والے سائل کو اس کی ایک ایک لمحے کی خیرات نصیب ہوتی ہے وہ اس کی ہر رات کو اپنے لیے لیل? القدر اور اس کے ہر دن کو اپنے لیے عید کا دن محسوس کرتے ہوئے وہ مانگتا چلا جاتا ہے سوال کرتا چلا جاتا ہے اور پھر اسے شب وصال کی برکات نصیب ہوتی ہے رمضان المبارک کی ہر شب ہنگامہ خیز لیکن اس کے اخری عشرہ کی طاق راتیں کیا ہی عجیب برکات سے بھرپور اور رحمتوں سے مزین ہے اس کا اندازہ اس بات سے کر لیجئے کہ جب خود محبوب حقیقی فرمائے کہ تم اپنی شب وصال کے لیے پھرتے ہو لیل? القدر کی ساعتوں میں ہم نے تمہارے لیے اپنا دامن کرم وا کر دیا ہے واہ واہ سبحان اللہ۔۔اللہ رب العزت اس ماہ مبارک کی بابرکت راتوں کو ہمیں اسی  رحیم وکریم پروردگار کو منانے کی، اس کے حضور دامن پھیلانے کی سعادتوں سے مالا مال فرمائے، غریب کی غربت کا ،مسافر کے سفر کی پریشانی کا ،یتیموں کی یتیمی کا، پریشان حالوں کی مشکلات کا ،مصیبت زدوں کی مصیبتوں کا،قرض میں ڈوبے مقروضوں سمیت بیوطن مسافروں کا احساس کرنے کی ہمت نصیب فرمائے۔رحمت دو جہاں حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے رمضان کا پہلا عشرہ مغفرت کا ہے ،دوسرا عشرہ رحمت کا ہے ،تیسرا عشرہ جہنم کی اگ سے نجات کا ہے، کیسا حسین پیکج ہے اور کیسی مبارک عنایت ہے رمضان المبارک کے پہلے دس دن میں توبہ کرنے کی سعادت ملے یعنی گزشتہ زندگی کی تمام خطائیں ،تمام گناہ صغائر و کبائر پر 
ندامت اور شرمندگی کا احساس کرتے ہوئے بندہ اپنے خالق و مالک پروردگار کے حضور توبہ کا اہتمام کرے اور ائندہ اسکی اطاعت و بندگی میں گزارنے کا عہد کرے پروردگار کی بخشش کا طلبگار ہو کر اس کا کرم سمیٹے، دوسرے عشرہ میں اللہ رب العزت کی طرف سے جو خاص رحمت کا نزول ہو ہم پہلے دل کے برتن کو صاف کریں اور پھر اس صفائی کے بعد یعنی توبہ اور مغفرت کے عمل کے ذریعے انسانی قلب کو دھوئیں اور اس تزکیہ کے بعد اس میں اللہ رب العزت کی رحمت کے نزول کی برکات کو سمیٹنے کا اعزاز حاصل کریں،رب ذوالجلال کی خاص تجلیات اور انوار جو انسانی روح میں ان دس دنوں میں پیوست کر دی جاتی ہیں اس سے روح کو جلا بخشیں اس سے اپنی مردہ شخصیت کو ایسی نورانیت بخشیں کہ جس سے ہمیں پروردگار کے قرب جیسی نعمت میسر آئے،تیسرا عشرہ جو کہ اہم ترین عشرہ ہے جیسا کہ لیل? القدر عام طور پر انہی دس راتوں میں اتی ہے یہ خاص نعمت خداوندی کا عشرہ ہے بندے کو جھنم کی اگ سینجات کا پروانہ دے دیا جاتا ہے ،جیساکہ جنت اللہ تعالی کے قرب و وصال کی منزل ہے تو اس عشرے میں اللہ تعالی اپنے بندوں سے یہ وعدہ فرماتا ہے کہ تم میرے ہو ،میرے ہی رہو گے، میں تمہیں اپنی رحمت سے جدا نہیں کروں گا، میں نے تمہیں اپنے قرب اور وصال کے لیے قبول فرما لیا ہے ، میری وفا کے مستحق ٹھہرو میں تمہیں پل بھر کے لیے اس رحمت سے مایوس نہیں کروں گا تو ان دس دنوں میں اللہ کا وہ کرم اور فضل اس کے حضور مانگنے والے  سائلوں کو، اس کے حضور سربسجود ہونے والے عبادت گزاروں اور اس کے لیے بھوک اور پیاس برداشت کرنے والے روزہ داروں کو اور اس کی مخلوق سے پیار کرنے والے پیاروں کو بے شمار انعامات نصیب ہوتے ہیں۔ اللہ کریم پیارے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے ھمیں اپنے صالحین وعارفین اورعابدین مقبول بندوں میں شامل فرمائے آمین