لیاقت بلوچ
ممحرام الحرام اسلامی کیلنڈر (ہجری سال) کا پہلا اور عظمت والا مہینہ ہے۔ اِس ماہِ مبارک کی آمد اسلامی تاریخ کے بعض اہم واقعات سے جڑی ہوئی ہے۔ نسلِ انسانی کے بانی حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ اِسی ماہِ مبارک میں قبول ہوئی، یکم محرم الحرام کو خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی ، 7 محرم الحرام کو اللہ تعالیٰ کوہِ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوئے، 10 محرم کو ہی پیغمبرِ خدا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اْن کی قوم سمیت فرعون کے ظلم سے نجات ملی اور اِسی مناسبت سے اہلِ یہود بطور شکر 10 محرم الحرام (یومء عاشورہ) کا روزے رکھتے تھے جسے ہمارے پیارے نبی نے ایک کی جگہ 2 روزوں سے تبدیل فرماتے ہوئے اِس کے بدلے ایک سال کے گناہ معاف ہونے کی خوشخبری سْنائی اور اِسی طرح بعض دیگر اہم واقعات بھی اِسی ماہِ مبارک میں رونما ہوئے۔
10 محرم الحرام کو عالم اسلام کی تاریخ کا وہ عظیم سانحہ رونما ہوا جسے تاریخِ اسلام میں واقعہ کربلا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِس روز میدانِ کربلا (حال عراق) میں نواسہ رسول?، جگر گوشہ بتول سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور خانوادہ رسول کے دیگر افراد، مرد و خواتین اور معصوم بچوں کی شہادتوں کا وہ دلخراش واقعہ رونما ہوا جس سے پوری دْنیا میں فرزندانِ اسلام کے دل آج بھی زخمی اور رنجیدہ ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول اور شیرِ خدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے کے چشم و چراغ کو اْس دور کے نظامِ حکومت میں ایسی کونسی خرابی اِس شدّت کے ساتھ محسوس ہورہی تھی کہ میدانِ کربلا میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ذاتِ عالی مقام اور اپنے خانوادے کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا اور فرمایا کہ: ’’ میری گردن کٹ تو سکتی ہے مگر مجھ سے جبراً بیعت نہیں کروائی جا سکتی۔‘‘
دراصل آنحضور کے وصال اور چاروں خلفائے راشدین کی خلافت کے بعد جب یزید کی جانشینی کے وقت جبراً لوگوں سے بیعت کروائی جانے لگی تو سیدنا اِمام حسین اور دیگر اہلِ اسلام نے اِس طریقہ کار کے خلافِ راشدہ پر مبنی بابرکت اور پاکیزہ شورائی طریقہ انتخاب کے خلاف ہونے کی بناء پر اِس کے خلاف آواز اْٹھائی۔ اِس تحریک کے پیچھے جو قوتِ محرکہ تھی وہ یہی تھی کہ اسلام بادشاہت نہیں خلافت کا نام ہے، خلیفہ وقت اللہ کی زمین پر اللہ کا نائب اور اپنے ہر قول و عمل کے لئے اللہ کے سامنے جواب دہ ہے، اس لئے امیر المومنین کے لئے انتخاب کا وہی طریقہ کار جائز ہے جو خلفائے راشدین کے دورِ مبارکہ سے چلا آرہا ہے۔
سیّدنا امام حسین کا یزید کی بیعت سے انکار اور قیام محض اقتدار کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ اسلامی نظامِ حکومت، قانون کی بالادستی، اور عوام کے حقِ انتخاب کے تحفظ کے لیے ایک اصولی اور دینی جدوجہد تھی۔ اِس انکار اور قیام کا مقصد خاندانی بادشاہت کا خاتمہ ، امر
بالمعروف و نہی عن المنکر کے نظام کی فعالیت، شورائی نظام اور آزادانہ انتخابِ خلیفہ کی بحالی، اسلامی دستور کے اصول اور اظہارِ رائے کی آزادی ، خدا اور مخلوقِ خدا کے سامنے جواب دہی، بیت المال پر عوام کے حقِ ملکیت کی بحالی اور ظلم و آمریت پر مبنی شخصی بالادستی کی بجائے اسلام کے قانون عدل و مساوات پر مبنی نظام کا قیام تھا۔ بانی جماعتِ اسلامی مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے لاہور میں شیعہ، سْنی حضرات کی ایک مشترکہ نشست سے خطاب میں اِنہی نکات کو واضح کرتے ہوئے فرمایا :
’’تاریخ کے غائر مطالعہ سے جو چیز واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور پھر اس کی تخت نشینی سے دراصل جس خرابی کی ابتدا ہو رہی تھی وہ اسلامی ریاست کے دستور اور اس کے مزاج اور اس کے مقصد کی تبدیلی تھی۔ اس تبدیلی کے پورے نتائج اگرچہ اس وقت سامنے نہ آئے تھے لیکن ایک صاحبِ نظر آدمی گاڑی کا رخ تبدیل ہوتے ہی یہ جان سکتا ہے کہ اب اس کا راستہ بدل رہا ہے اور جس راہ پر یہ مڑ رہی ہے وہ آخرکار اسے کہاں لے جائے گا۔ یہی رخ کی تبدیلی تھی جسے امام (عالی مقام) نے دیکھا اور گاڑی کو پھر سے صحیح پٹڑی پر ڈالنے کے لیے اپنی جان لڑا دینے کا فیصلہ کیا۔ ‘‘آگے چل کر فرماتے ہیں:
’’اسلامی ریاست کی روح تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیزگاری کی روح تھی، جس کا سب سے بڑا مظہر خود ریاست کا سربراہ ہوتا تھا۔ حکومت کے عمال اور قاضی اور سپہ سالار‘ سب اس روح سے سرشار ہوتے تھے اور پھر اس روح سے وہ پورے معاشرے کو سرشار کرتے تھے‘ لیکن بادشاہی کی راہ پر پڑتے ہی مسلمانوں کی حکومتوں اور ان کے حکمرانوں نے قیصر و کسریٰ کے سے رنگ ڈھنگ اور ٹھاٹھ باٹھ اختیار کر لیے۔ عدل کی جگہ ظلم و جور کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔ پرہیزگاری کی جگہ فسق و فجور اور راگ رنگ اور عیش و عشرت کا دور دورہ شروع ہو گیا۔ حرام و حلال کی تمیز سے حکمرانوں کی سیرت و کردار خالی ہوتی چلی گئی۔ سیاست کا رشتہ اخلاق سے ٹوٹتا چلا گیا۔ خدا سے خود ڈرنے کی بجائے حاکم لوگ بندگانِ خدا کو اپنے آپ سے ڈرانے لگے اور لوگوں کے ایمان و ضمیر بیدار کرنے کے بجائے ان کو اپنی بخششوں کے لالچ سے خریدنے لگے. ‘‘
اِسی طرح اسلامی دستور کے اہم ترین اصول آزادانہ انتخاب، شورائی نظام، اظہارِ رائے کی آزادی، خدا اور مخلوق کے سامنے جواب دہی، بیت المال ایک امانت، قانون کی حکمرانی اور حقوق و مراتب کے لحاظ سے کامل مساوات وہ سات اہم اْصول تھے جنہیں پسِ پشت ڈالا گیا اور جس کے نتیجے میں اسلامی خلافت ایک خاندانی بادشاہت میں تبدیل ہوگئی۔ امام حسین? نے اِسی شخصی بادشاہت کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا تاکہ اسلام کے پاکیزہ اْصولوں پر مبنی خلافتِ راشدہ کے نظام کو بحال کیا جاسکے۔ اسلامی نظامِ ریاست و حکومت کے احیاء کے لئے امامِ عالی مقام نے اپنی جان اور اہل و عیال کی قربانیاں دے کر یہ ثابت کردیا کہ اصل بیش قیمت سرمایہ اسلام کے وہ بنیادی اْصول ہیں جن کے نفاذ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا اور آخر میں اپنے محبوب نبیِ، خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمد مصطفٰی کو رہتی دْنیا کے انسانوں کے لئے کامل دین - دینِ اسلام دے کر بھیجا ، تاکہ اِس دین کو دْنیا میں رائج تمام دیگر ادیان پر غالب کردے۔ قرآنِ مجید کی سورۃ المائدہ، آیت نمبر 3 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے دینِ اسلام کو تمہارے دین
کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔
ماہِ محرم الحرام کی فضیلت اور حْرمت روزِ آفرینش سے چلی آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو حرمت والے مہینے (یعنی جن میں لڑائی جھگڑا ممنوع ہے) قرار دیا ہے، اْنہیں "الشہرِ الحرم" کہا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورہ التوبہ، آیت نمبر 36 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: "بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں (جو) اللہ کی کتاب میں اس دن سے لکھے ہیں جس دن سے اس نے آسمان اور زمین بنائے تھے، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے۔ ‘‘ احادیثِ مبارکہ کی رو سے یہ چار مہینے محرم الحرام، ذیقعدہ، ذو الحجہ اور رجب ہیں۔ محرم الحرام کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم نے اسے "اللہ کا مہینہ" (شہر اللہ) قرار دیا اور اس میں روزے رکھنے کی خصوصی تاکید فرمائی۔ یوں تو سارے ہی دن اور مہینے اللہ تعالیٰ کے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے سے اس کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ ماہِ محرم کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس مہینے کا روزہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور اکرم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک صاحب نے آکر پوچھا ،یا رسول اللہ ! رمضان کے مہینے کے بعد کس مہینے کے روزے رکھنے کا آپ مجھے حکم دیتے ہیں؟ تو حضور اکرم نے فرمایا : اگر رمضان کے مہینے کے بعد تمہیں روزہ رکھنا ہو تو محرم کا روزہ رکھو ،اس لئے کہ یہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی اور دوسرے لوگوں کی توبہ بھی قبول فرمائیں گے۔ (مسلم، ترمذی) جس قوم کی توبہ قبول ہوئی، وہ قوم بنی اسرائیل ہے، جیساکہ اس کی وضاحت حدیث میں ہے کہ عاشورہ کے دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی تھی۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: ’’یومِ عاشورہ (10 محرم) کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ سے قوی امید ہے کہ یہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ ‘‘ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی یومِ عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے (روزہ رکھنے کی) وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون کے ظلم) سے نجات دلائی تھی، موسیٰ نے بھی اس (دن) کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم نے فرمایا: ’’موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ (مناسبت کے اعتبار سے) میں زیادہ حق رکھتا ہوں۔‘‘ تو آپ نے روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی دیا (صحیح البخاری: 2004، صحیح مسلم: 1130)۔ تاہم یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کے لیے آپ نے حکم دیا کہ دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی رکھا جائے۔ اگر نویں محرم کا روزہ نہ رکھ سکیں تو دسویں کے ساتھ گیارہویں محرم کا روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس سے ہی روایت ہے فرماتے ہیں: ’’جب رسول کریم نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ وہ دن ہے جس کی تعظیم یہودی اور عیسائی کرتے ہیں، سرکارِ دوعالم نے فرمایا: اگر ہم آئندہ سال اِس دنیا میں رہے تو نویں محرم الحرم کا روزہ بھی رکھیں گے (ابوداؤد، مسند احمد)۔
شہادتِ امام حسین اسلامی تاریخ کا ایک عظیم موڑ ہے۔ امام حسین نے کلمہ حق بلند کرنے اور ظالم حکمران کے سامنے ڈٹ جانے کی
لازوال مثال قائم کی تاکہ امتِ مسلمہ کے لیے ظلم کے آگے سر نہ جھکانے کا درس باقی رہے۔ ماہ محرم کا آغاز ہمیں یہی پیغام یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اسلامی نظام حکومت کے قیام کی جدو جہد بالکل اسی طرح کرنی ہے، جس طرح حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی۔ ہمیں ظلم کے نظام کے خلاف اسی طرح متحد ہو کر ڈٹ کر کھڑے ہو جانا ہے۔جیسے سیّدنا امام حسین اور خانوادہ رسول جابر حاکمِ وقت کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑے ہوگئے۔
امام حسین کی قربانی کا اصل مقصدِ حیات یہ ہے کہ آج بھی نااہل، غاصب حکمرانوں کے خلاف کلمہ حق کا عَلم بلند کیا جائے اور معاشرے میں اسلامی اقدار و شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔ عظیم سانحہ کربلا سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ ہر مسلمان کو کلمہ حق کے لئے جدوجہد کرنی ہے، خواہ وہ مسلمان ماضی کے 60 ہجری کے دور کا ہو یا موجودہ 1447 ہجری کا۔ پاکستان میں ظلم اور استحصال پر مبنی نظام ، مہنگائی ، بے روزگاری، وسائل کے غیرمنصفانہ تقسیم نیز حکمرانوں کی عیاشیوں نے عام آدمی کو مایوسیوں اور محرومیوں کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ حکمرانوں کی ناقص اور ناکام پالیسیوں نے عوام کی مشکلات میں اِس حد تک اضافہ کر دیا ہے کہ عام آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول خواب بنتا جارہا ہے، لہٰذا ظلم پر مبنی اس نظام کی اصلاح لازم ہے جس کے لئے بحیثیت قوم ہم سب نے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جدوجہد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیر جانبداری، لاتعلقی، ظلم سہتے رہنا، عدم دلچسپی ،اور محض تبصرہ و تجاویز کی عمومی روِش اور عادت سے آگے بڑھ کر نظام کی تبدیلی کے لئے جدوجہد کرنی ہے۔ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا افضل جہاد ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے جارح قوتوں کے خلاف ڈٹ کر اور اپنی اعلیٰ ترین قیادت کی قربانی دے کر ہی امریکہ و اسرائیل جیسی شیطانی قوتوں کو جھکنے اور اپنا مؤقف منوانے پر مجبور کیا۔
آئینِ پاکستان کی رْو سے ہم ایک اسلامی ریاست کے شہری ہیں۔ ذمہ دار پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ آئین کی فرمانروائی اور قرآن و سْنت کی بالادستی کے لئے پْرامن جدوجہد کو اپنا شعار بنائیں اور اپنے ارد گرد بھی اس کا شعور پیدا کریں تاکہ یہ ملک حقیقی معنوں ایک خوشحال اسلامی فلاحی اور عوام دوست مملکت کے طور پر اْبھرکر سامنے آئے۔
۔۔۔ ٭۔۔۔