بڑے صنعتی شعبوں میں 700 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری بے نقاب

بڑے صنعتی شعبوں میں 700 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری بے نقاب

پاکستان کے کاروباری شعبوں میں ٹیکس چوری کا بڑا انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق ملک کے بڑے کاروباری شعبوں میں ساڑھے 700 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا سامنا ہے۔

 نجی تھنک ٹینک "پرائم" کی رپورٹ کے مطابق غیر قانونی تجارت کا حصہ تمباکو، دوا سازی، ٹائر، آئل، پیٹرول، ڈیزل اور چائے جیسے شعبوں میں موجود ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تمباکو سیکٹر میں غیر قانونی تجارت کا حصہ 65 فیصد ہے، جس سے قومی خزانے کو سالانہ 300 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایران سے سالانہ 2 ارب 80 کروڑ لیٹر پیٹرول اور ڈیزل اسمگل کیا جاتا ہے، جس سے 270 ارب روپے کا ریونیو نقصان ہو رہا ہے۔فارماسیوٹیکل سیکٹر میں 40 فیصد دوائیں جعلی یا غیر معیاری ہیں، جس کے نتیجے میں ملکی خزانے کو 60 سے 65 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

 ملک میں 60 فیصد اسمگلڈ ٹائرز سے 106 ارب روپے کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے، جبکہ 30 فیصد اسمگلڈ چائے کی فروخت سے ملک کو سالانہ 10 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔یہ رپورٹ پاکستان کے کاروباری شعبوں میں غیر قانونی تجارت کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے جو ملک کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔