پنجاب میں غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف مہم: اب تک 12,945 افراد ملک بدر

پنجاب میں غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف مہم: اب تک 12,945 افراد ملک بدر

پنجاب میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی باشندوں کے خلاف انخلا کی جاری مہم کے دوران اب تک 12,945 افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی بتائی جا رہی ہے۔

پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق، انخلا کی اس مربوط اور منظم مہم کے تحت 13 ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن کو مختلف ہولڈنگ سینٹرز میں منتقل کیا گیا ہے۔ ان مراکز میں ان افراد کی دستاویزات اور شناخت کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ اس وقت 99 افراد مختلف ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں جن کے کوائف کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

46 ہولڈنگ سینٹرز قائم، لاہور میں 5 فعال مراکز
اس مقصد کے لیے صوبے بھر میں 46 ہولڈنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 5 لاہور میں فعال ہیں۔ ان مراکز میں غیرقانونی افراد کو منتقلی کے بعد ان کے کاغذات کی تصدیق، رہائش، خوراک اور طبی امداد فراہم کی جاتی ہے تاکہ انخلا کے عمل کو انسانی بنیادوں پر منظم اور محفوظ طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔

آئی جی پنجاب کا مؤقف
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب نے بتایا کہ صوبے میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور غیرقانونی مقیم افراد کے انخلا کو ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا:

"ہم بین الاقوامی قوانین کے تحت غیرقانونی تارکین وطن کے انخلا کی پالیسی پر مکمل طور پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے، اور انخلا کے عمل میں کسی بھی قسم کی زیادتی یا بدسلوکی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔"
پس منظر
یہ مہم وفاقی حکومت کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے تاکہ ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی موجودگی کو روکا جا سکے اور سیکیورٹی و انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انخلا کا عمل آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کی نرمی یا رعایت کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔